اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی امور کے سربراہ کی مشرق وسطیٰ میں جنگ کی ایک ارب ڈالر یومیہ لاگت کی مذمت

اقوام متحدہ ۔12مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی امور کے سربراہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی یومیہ ایک ارب ڈالر لاگت کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے وقت میں جب انسانی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں، امدادی فنڈنگ خطرناک حد تک کم ہوتی جا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ انسانی امدادی عہدیدار ٹام فلیچر نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے …

اقوام متحدہ ۔12مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی امور کے سربراہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی یومیہ ایک ارب ڈالر لاگت کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے وقت میں جب انسانی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں، امدادی فنڈنگ خطرناک حد تک کم ہوتی جا رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ انسانی امدادی عہدیدار ٹام فلیچر نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری تشدد کے اثرات سرحدوں سے باہر تک پھیل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور معاشی جھٹکے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر مزید امداد فراہم نہ کی گئی تو لاکھوں افراد کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دسمبر میں اقوامِ متحدہ نے دنیا کے 87 ملین انتہائی ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے 23 ارب ڈالر کی اپیل کی تھی، تاہم اس کا تقریباً دو تہائی حصہ اب تک فراہم نہیں ہو سکا۔ فلیچر کے مطابق اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ابھی بھی 14 ارب ڈالر سے زائد درکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف امدادی منصوبوں کے لیے فنڈز کی شدید کمی ہے جبکہ دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ پر روزانہ تقریباً ایک ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر صرف ایک ارب ڈالر بھی امدادی سرگرمیوں کے لیے فراہم کر دیے جائیں تو لاکھوں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

ٹام فلیچر نے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے بحرانوں کے باعث انسانی امدادی نظام کو فوری طور پر مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ غزہ اور سوڈان اس وقت امداد کے حوالے سے سب سے زیادہ توجہ کے مستحق ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں کشیدگی عالمی سطح پر خوراک، توانائی اور کھاد کی قیمتوں کو بھی متاثر کر رہی ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ مزید کشیدگی کی صورت میں دیگر سپلائی راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں جس کا براہِ راست اثر افریقہ کے ضرورت مند علاقوں تک پہنچنے والی امداد پر پڑے گا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور خطے میں امدادی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ان کے مطابق حالیہ عرصے میں سوڈان، لبنان اور جمہوریہ کانگو میں امدادی کارکنوں کی ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹام فلیچر نے کہا کہ امدادی کارکنوں کو بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں 90 فیصد شہری تھے جن میں امدادی کارکن بھی شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات انسانی امداد کے لیے ایک کڑا امتحان ہیں، وسائل محدود ہیں اور خطرات بڑھ رہے ہیں، تاہم اقوامِ متحدہ اپنے اصولوں اور انسانی خدمت کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

مزید خبریں