وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا چینلز مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، یہ واحد فورم ہے جہاں ضابطہ اخلاق موجود ہے، الیکٹرانک میڈیا کو درپیش چیلنجز کے حل اور اس کی ترقی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر اقدامات کرنا ہوں گے۔
الیکٹرانک میڈیا کو درپیش چیلنجز کے حل کے لئے مل بیٹھ کر اقدامات کرنا ہوں گے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا چینلز مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، یہ واحد فورم ہے جہاں ضابطہ اخلاق موجود ہے، الیکٹرانک میڈیا کو درپیش چیلنجز کے حل اور اس کی ترقی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان قومی اسمبلی کے ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت نجی ٹی وی چینلز کے بقایا جات کی ادائیگی کے لئے اقدامات کر رہی ہے تاکہ میڈیا ادارے اپنے ملازمین کو بروقت تنخواہیں ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ہائوسز کی زیر التوا ادائیگیوں کا معاملہ کل اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں بھی زیر غور آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا ادارے اکثر عید کے قریب ادائیگیوں کی جلد فراہمی کی درخواست کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا کر سکیں۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) میں ایک مخصوص سیل قائم ہے جو بقایا جات کی صورتحال کی نگرانی کرتا ہے اور میڈیا اداروں کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے تاکہ ادائیگیوں میں سہولت پیدا کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام سے قبل مزید ادائیگیوں کا ایک حصہ جاری کیا جائے تاکہ میڈیا اداروں پر مالی دبائو کم ہو اور ملازمین کو بروقت تنخواہیں مل سکیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشنز کے حوالے سے یہ بات کہنا چاہتے ہیں کہ الیکٹرانک میڈیا چینلز مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں تاہم یہی واحد فورم ہے جہاں ضابطہ اخلاق موجود ہے، ادارتی بورڈ کام کر رہے ہیں اور ذمہ دار صحافت کی مثال پیش کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسداد پولیو مہم، ڈیجیٹل والٹ مہم یا دیگر عوامی اہمیت کے امور پر آگاہی مہمات کے لئے اشتہارات جاری کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے تمام وزارتوں، ڈویژنوں، خودمختار اداروں اور دیگر اداروں کی تفصیلات فراہم کر دی گئی ہیں کہ کن کن مدات میں اشتہارات جاری کئے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جب میڈیا ادائیگیوں کی بات آتی ہے تو پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ معاملات طے کئے جاتے ہیں جو تمام الیکٹرانک میڈیا چینلز کی نمائندہ تنظیم ہے اور ان کی آپس میں ہم آہنگی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹاپ، مڈ ٹیئر اور تھرڈ ٹیئر چینلز کو ریٹنگ کے مطابق ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2024 سے 2026 کے دوران تمام وزارتوں، ڈویژنز اور سرکاری اداروں کی ادائیگیوں اور مختلف مہمات کو شامل کیا جائے تو مجموعی طور پر 8 بلین روپے کی رقم بنتی ہے تاہم بعض چینلز کا موقف ہے کہ یہ رقم کم ہے اور اس میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کا دائرہ کار محدود ہو رہا ہے، اگر یہ مزید کمزور ہوتا ہے تو صورتحال ایسی جگہ پہنچ سکتی ہے جہاں کوئی ضابطہ اخلاق موجود نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی جوابدہی کا نظام رہے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام چینلز ٹیکس ادا کرتے ہیں اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے قواعد و ضوابط کی پابندی بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، دیگر ریگولیٹری اداروں اور وزارت اطلاعات کے سامنے بھی جوابدہ ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ٹاک شوز ہوں یا نیوز سائیکل، اپوزیشن کو بھی اتنی ہی کوریج ملتی ہے جتنی حکومت کو دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کو درپیش چیلنجز کے حل اور اس کی ترقی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حوالے سے تمام تفصیلات اور مجموعی اعداد و شمار بھی بتائے جا چکے ہیں جبکہ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر ہر چینل کو کتنی آمدن حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے میڈیا ورکرز کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کے معاملات بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔ انہوں نے بعض میڈیا اداروں کی جانب سے مثبت اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سنو نیوز نے کچھ ملازمین کو دوبارہ ملازمت پر بحال کیا ہے جبکہ آج نیوز نے حالیہ صورتحال کے بعد کچھ بقایا جات کی ادائیگی بھی کی ہے جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ کئی چینلز اپنی مالی مشکلات کے باعث چار چار ماہ تک ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا نے ملک میں ذمہ دار صحافت کو فروغ دیا ہے اور اس شعبے کو مزید سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر نے میڈیا ورکرز کے لئے مالی معاونت کے طریقہ کار کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر پی بی اے اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے گی تاکہ میڈیا ورکرز کے تحفظ کے لئے متفقہ لائحہ عمل بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی نے مالی نظم و ضبط کے ذریعے فیفا ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق حاصل کئے اور یہ امر باعث فخر ہے کہ اس ایونٹ میں استعمال ہونے والی فٹ بالز سیالکوٹ میں تیار کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کی بقا اور ترقی قومی مفاد میں ہے اور اس شعبے کی بہتری کے لئے مزید اصلاحات اور اقدامات کی ضرورت ہے۔







