وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کا ماڈل اختیار کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث ملکی معیشت اپنی حقیقی صلاحیتوں کے مطابق ترقی نہیں کر سکی۔جمعرات کو پاکستان اکنامک سروے کے اجراء کے موقع پر انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم تقریباً 90 لاکھ پاکستانی ہر سال 40 ارب …
بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہر سال 40 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ وطن بھیجتے ہیں،، وفاقی وزیر احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔11جون (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کا ماڈل اختیار کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث ملکی معیشت اپنی حقیقی صلاحیتوں کے مطابق ترقی نہیں کر سکی۔جمعرات کو پاکستان اکنامک سروے کے اجراء کے موقع پر انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم تقریباً 90 لاکھ پاکستانی ہر سال 40 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ وطن بھیجتے ہیں، جبکہ 25 کروڑ آبادی والا پاکستان مجموعی طور پر تقریباً 40 ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کو اپنی پیداواری اور برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔احسن اقبال نے زور دیا کہ قوموں کی ترقی کے لیے ماضی کے تجربات اور تاریخ سے سبق سیکھنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور قومی ترجیحات پر اتفاقِ رائے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جو حکومت یا ادارہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے اسے اپنی پالیسیوں کے نتائج حاصل کرنے کے لیے مزید موقع ملنا چاہیے، کیونکہ ترقیاتی منصوبوں اور معاشی اصلاحات کے ثمرات وقت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو روایتی طرزِ فکر سے نکل کر اپنے ترقیاتی پیراڈائم کو تبدیل کرنا ہوگا، تاکہ معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق ملک معاشی بحالی کے راستے پر گامزن ہے اور مختلف شعبوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، جنہیں مستقل مزاجی اور مؤثر پالیسیوں کے ذریعے مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔







