عالمی برادری نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو سراہتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔
امریکا اور ایران میں جنگ بندی، عالمی برادری کا خیر مقدم،مستقل امن عمل پر زور

مزید خبریں
۔8اپریل (اے پی پی):عالمی برادری نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو سراہتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔ الجزیزہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر دنیا بھر کے ممالک اور اداروں نے خوشی کا اظہار کیا ۔ جنوبی کوریا نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تمام جہاز بشمول اپنے تجارتی جہاز محفوظ گزر سکیں اور مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو کر مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام بحال ہو۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے جنگ بندی کی تعریف کرتے ہوئے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق عمل کریں اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تعاون کریں۔
آسٹریلیا نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو عالمی معیشت اور انسانی نقصان میں اضافہ ہوگا، وزیراعظم انتھونی البانیز نے شہریوں کی حفاظت اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے احترام پر بھی زور دیا۔ اسی طرح نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے ابھی اہم اقدامات باقی ہیں ، انہوں نے اپنے ملک کی جانب سے امن عمل کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ جاپان نے کہا کہ بحران کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں بالخصوص آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت یقینی بنانا۔ عراق نے جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان سنجیدہ اور پائیدار مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔مصر کی وزارت خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کو اہم موقع قرار دیا ہے۔
وزارت نے کہا کہ یہ موقع مذاکرات، سفارتکاری اور تعمیری مکالمے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن کے امکانات بڑھ سکیں۔ملائشیا کی وزارت خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے جو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور ضروری امن و استحکام بحال کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ وزارت نے فریقین سے اپیل کی کہ وہ جنگ بندی کی تمام شرائط کا احترام اور نفاذ کریں تاکہ کشیدگی دوبارہ نہ بڑھے، کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی یا یکطرفہ اقدام سے گریز کریں جو خطے کے نازک استحکام یا عالمی اقتصادی اور توانائی کی سکیورٹی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔








