حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد پیر کو تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کی رفتار دوبارہ سست ہو گئی ہے۔
امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
نیویارک۔29جون (اے پی پی):حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد پیر کو تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کی رفتار دوبارہ سست ہو گئی ہے۔بی بی سی کے مطابق برینٹ کے مستقبل کے سودے 58 سینٹ یعنی 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 72.57 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے 88 سینٹ یعنی 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 70.11 ڈالر فی بیرل میں طے پائے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی مارکیٹ کو اب بھی کافی خطرات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اطمینان حیران کن ہے اور اگر رسد کی بحالی سست رہی تو اس سے قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خطرہ واضح طور پر موجود ہے ۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی ترسیل میں اضافے کے بعد گذشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10.6 فیصد کمی ہوئی تھی، خام تیل کے نرخوں میں کمی کا یہ رجحان مسلسل ہفتوں سے جاری تھا۔









