امریکا اور ایران کے ایک دوسرے کے اہداف پر حملے اور جوابی حملے دوسرے روز بھی جاری

ایران کی فوج نے کہاہے کہ ایران کے خلاف بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب دوبارہ امریکی حملوں کے بعد اس نے کویت، قطر اور بحرین میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق کویت میں امریکی پیٹریاٹ میزائل سسٹم، قطر میں سیٹلائٹ اینٹینا ارلی وارننگ سسٹم، اور بحرین میں امریکی ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو مختلف اقسام کے بڑی …

تہران ۔9جولائی (اے پی پی):ایران کی فوج نے کہاہے کہ ایران کے خلاف بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب دوبارہ امریکی حملوں کے بعد اس نے کویت، قطر اور بحرین میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق کویت میں امریکی پیٹریاٹ میزائل سسٹم، قطر میں سیٹلائٹ اینٹینا ارلی وارننگ سسٹم، اور بحرین میں امریکی ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو مختلف اقسام کے بڑی تعداد میں ڈرونز کے ذریعے ہدف بنایا گیا۔بی بی سی کے مطابق ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے کچھ ہی دیر پہلے کیے گئے اور یہ خطے میں موجود امریکی اڈوں پر ایران کے جاری حملوں کا تسلسل ہیں۔یہ بیان ایران کے متعدد ذرائع ابلاغ، بشمول سرکاری نشریاتی ادارے، کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ دوسری طرف امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ آٹھ جولائی کو ایران کے خلاف کارروائی میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا کہ ایران میں فضائی دفاع کے نظام، ساحلی نگرانی کے وسائل، میزائلز اور ڈرونز کی ذخیرہ گاہوں، بحری صلاحیتوں اور ایران کے ساحلی علاقوں میں واقع فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے گئے۔سینٹ کام کے مطابق گذشتہ روز بھی پاسداران انقلاب کی 60 چھوٹی کشتیوں سمیت ایران میں 80 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کارروائی کو سینٹ کام نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں کا جواب قرار دیا تھا۔سینٹ کام نے کہا ہے کہ امریکی افواج بدستور چوکس ہیں اور اپنے کمانڈر اِن چیف کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل در آمد کے لیے تیار ہیں۔امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔اس سے قبل کئی خلیجی ممالک، جن میں بحرین، کویت اور قطر شامل ہیں سے حملوں یا سکیورٹی الرٹس کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں ۔

بحرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے جمعرات کی صبح ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد حملہ آور اہداف کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ ایشیائی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت بڑھ کر اس سطح پر جا پہنچی ہے جو جون کے وسط میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے پہلے تھی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹر میڈیٹ کی قیمت تقریباً 74 ڈالر فی بیرل تک ہے۔اس سے پہلے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات کے بعد مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی رسد مزید متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کویتی فوج نے کہا ہے کہ اس کافضائی دفاع کا نظام دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دھماکوں کی آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے کی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔ایکس پر پیغام میں کویتی فوج نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔بیان میں شہریوں اور ملک میں مقیم افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ اس جگہ نہ جائیں جہاں دفاعی کارروائیوں کے دوران گرنے والے شیلوں کے ٹکڑے پڑے ہوں، اور نہ ہی ان کی تصاویر یا ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔بحرین کی وزارتِ داخلہ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اعلان کیا ہے کہ ملک میں میزائل و ڈرون حملوں کے خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں۔ پیغام میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور قریبی محفوظ مقام کی جانب چلے جائیں۔

 

مزید خبریں