امریکا ایران کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور ممکنہ مفاہمتی پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے، جس سے توانائی کی عالمی منڈی میں سپلائی کے حوالے سے خدشات میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور ممکنہ مفاہمتی پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان برقرار ہے، جس سے توانائی کی عالمی منڈی میں سپلائی کے حوالے سے خدشات میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔منگل کو بھی خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی ہے۔

لندن برینٹ کروڈ کی قیمت 43 سینٹس کمی کے بعد 82.74 ڈالر فی بیرل تک آگئی، جبکہ امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت 31 سینٹس کم ہو کر 80.44 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کے مربان خام تیل کی قیمت 5.79 ڈالر کمی کے بعد 77.23 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 6 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل معمول پر آتی ہے تو عالمی منڈی میں سپلائی بہتر ہونے سے قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

مالیاتی ادارے مورگن اسٹینلے کے مطابق تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت مکمل طور پر بحال ہونے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ادارے نے پیش گوئی کی ہے کہ ستمبر تک تیل کی پیداوار اور ترسیل تقریباً 50 فیصد جبکہ دسمبر تک 80 فیصد تک بحال ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے آثار برقرار رہے تو عالمی توانائی منڈی میں قیمتوں کا موجودہ دباؤ آئندہ ہفتوں میں بھی برقرار رہ سکتا ہے، جس سے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔