امریکا کا ایران سے مذاکرات پر مشروط آمادگی کا عندیہ

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):سینئر امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ایران سے تفصیلی تجویز موصول ہونے کی صورت میں امریکی مذاکرات کار جمعے کو جنیوا میں اس کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے تیار ہیں۔العربیہ اردو کے مطابق امریکی عہدیدار نے کہا کہ اگر ایران ایک مسودہ تجویز پیش کرتا ہے توامریکا جنیوا میں جمعہ کو ملاقات …

اسلام آباد۔23فروری (اے پی پی):سینئر امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر ایٹمی معاہدے کے حوالے سے ایران سے تفصیلی تجویز موصول ہونے کی صورت میں امریکی مذاکرات کار جمعے کو جنیوا میں اس کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے تیار ہیں۔العربیہ اردو کے مطابق امریکی عہدیدار نے کہا کہ اگر ایران ایک مسودہ تجویز پیش کرتا ہے توامریکا جنیوا میں جمعہ کو ملاقات کے لیے تیار ہے تاکہ یہ جاننے کے لیے تفصیلی مذاکرات شروع کیے جا سکیں کہ آیا ایٹمی معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔

امریکی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور ایران مکمل ایٹمی معاہدے پر اتفاق سے قبل ایک عبوری معاہدے کے امکان پر بھی بات چیت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے مشیروں نے اطلاع دی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے بہت سے ارکان اس وقت انہیں صبر کا مشورہ دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اورامریکی ثالث جیریڈ کشنر نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تہران کے خلاف فوجی حملے کا فیصلہ کرنے سے پہلے سفارت کاری کو ایک موقع دیں۔

ایران کے اس ہفتے کے اوائل میں تجویز بھیجنے کی صورت میں دونوں امریکی مندوبین سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر 27 فروری کو جنیوا جانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ منگل 17 فروری کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے آخری دور کے دوران سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے چند دنوں کے اندر ایک تفصیلی تحریری تجویز پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

وٹکوف اور کشنر نے عراقچی کو بتایا کہ ٹرمپ کا موقف ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہ کرناہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایک ایسی ایرانی تجویز پر غور کرنے کی آمادگی ظاہر کی جس میں علامتی افزودگی شامل ہو۔دوسری جانب عراقچی نے جمعہ کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ وہ ہفتے کے آخر تک تجویز کی تیاری مکمل کر لیں گے اور تہران کی سیاسی قیادت کی منظوری ملتے ہی اسے سٹیووٹکوف اور جیرڈ کشنر کے حوالے کر دیں گے۔