بھارت کے 9 لاکھ فوجی مقبوضہ کشمیر میں موجود ہیں،بھارت جب عائد کرفیو اٹھائے گا ، شہری احتجاج کریں گے، ان کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جائے گا وزیراعظم عمران خان کا ترک خبررساں ادارے کو انٹرویو

اسلام آباد ۔ یکم فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان الیہ تنازعہ کے بعد مشرق وسطیٰ میں پاکستانی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں تنائو میں کمی آئی ہے ۔وزیراعظم نے اس معاملے کو مستقل طور پر حل کرنے کیلئے مزید کوشش کرنے پر زور بھی دیا ہے۔ہفتہ کے روز ترک خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان …

اسلام آباد ۔ یکم فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان الیہ تنازعہ کے بعد مشرق وسطیٰ میں پاکستانی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں تنائو میں کمی آئی ہے ۔وزیراعظم نے اس معاملے کو مستقل طور پر حل کرنے کیلئے مزید کوشش کرنے پر زور بھی دیا ہے۔ہفتہ کے روز ترک خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر میزائل حملے کے بعد پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا۔ ہم نے تنائو کم کرنے کیلئے سعودی عرب سے بات کی، ہم ایران بھی گئے اور امریکہ سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دونوں ملکوں کے درمیان تنائو میں کمی لانے کے لئے اپنے حصے کا کردار ادا کیا ہے تاہم اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کرنے کیلئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی تنائو موجود ہے تاہم میرا خیال ہے کہ ہم نے جنگ کا راستہ روک لیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک وقت پر ایسے لگ رہا تھا کہ جنگ شروع ہوگئی ہے لیکن اب ایسے لگ رہا ہے کہ تنائو میں کمی آئی ہے تاہم مزید کوششوں کی ضرورت ہے اور ہم اس حوالے سے کوششیں جاری رکھیں گے۔ پاکستان اور ترکی کے تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے فروری کے وسط میں اسلام آباد کا دورہ متوقع ہے ۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس دورہ سے انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان بھائی چارے کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان قریبی تعلقات ہیں،پاکستان کشمیری عوام کا ساتھ دینے پر ترکی کا شکریہ ادا کرتا ہے ،ترک صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے کشمیر میں بی جے پی کی فاشسٹ حکومت کی بربریت کے خلاف بیان حوصلہ افراء ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلقات دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہورہے ہیں،انہوں نے کہا کہ طیب اردگان اپنے دورہ پاکستان کے موقع پر مختلف بزنس گروپس اور سرمایہ کار ساتھ لائیں گے، پاکستان کے ہم منصب سے ملیں گے جو کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو مزید وسعت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مائینگ سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کی مدد کرسکتا ہے جبکہ پاکستان بھی ترکی سے مختلف شعبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کا خواہشمند ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس سال تحریک خلافت کے 100 سال منانے کا ارادہ رکھتے ہیں،حکومت کی معاشی کوششوں کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ ان کی معاشی ٹیم نے کرنٹ اکائونٹ خسارے پر 75 فیصد قابو پالیا ہے اور روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے،معاشی لحاظ سے اعتماد میں اضافہ ہورہا ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی آئی ہے ،ہم غیر ملکی سرمایہ کاری میں کافی آگے گئے ہیں ، اب ملک مستحکم ہے اور اس کو مستحکم رکھنا ہے جس کیلئے محنت کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بڑے بحران سے نکل گئے ہیں جو ہمیں وراثت میں ملا تھا ۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو درپیش دوسرا بڑا چیلنج افراط زر کو کم کرنا ہے اور سستے مکانات اور روزگار کے شعبوں پر توجہ کے ذریعے ملکی شرح نمو میں اضافہ کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نظم و نسق کے نظام کو بہتر بنا رہی ہے اور کاروبار کو آسان بنا رہی ہے جس سے ملک میں پہلے ہی 28 پوائنٹ اضافہ ہوا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر پاکستان اسی سمت گامزن رہا تو بہت جلد سرمایہ کاری کا مرکز بن جائے گا،موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے حوالے سے حکومتی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ چار سال کے دوران 10 ارب درخت لگائے گی اور تمام انرجی مکس میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ 10 سال کے دوران 41 فیصد قابل تجدید توانائی پیدا کی جائے گی۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بارے انہوں نے کہا بھارت نے جو کچھ کشمیر میں کیا ہے انتہائی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ صورتحال جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بھارت مقبوضہ کشمیر میں عائد کرفیو اٹھائے گا لوگ سڑکوں پر آکر اس کے خلاف احتجاج کریں گے جس سے تشدد میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے 9 لاکھ فوجی مقبوضہ کشمیر میں موجود ہیں جب شہری احتجاج کریں گے ان کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جائے گا اور ہم محسوس کرتے ہیں کہ اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے ہم یہ بار بار کہہ رہے ہیں اقوام متحدہ اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں شہریت کے نئے قانون کی منظوری کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے ایسا ہی میانمار میں ہوا جب اس نے اندراج کے قانون پر عملدرآمد شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ اس سے بھارت منقسم ہوگا کیونکہ نہ صرف مسلمان بلکہ اقلیتیں بھی اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش بھی اس حوالے سے پریشانی کا شکار ہے کیونکہ آسام میں تقریبا20 لاکھ افرادکی شہریت ختم کردی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ کورونا وائرس پر قابو پالیا جائے گا، ہم چین کیلئے دعا کرتے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ وہاں پر کیا صورتحال ہے ، پاکستان اس سلسلے میں چین کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے، سی پیک کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کردیا کہ پاکستان چین کے قرضے کے چنگل میں پھنس رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنے آئندہ دورہ کے دوران پاکستان ترک وفد کو سڑک کے ذریعے روابط استوار کرنے کیلئے سی پیک میں شامل ہونے کی دعوت دے گا کہ وہ سی پیک کا حصہ بنیں۔ افغانستان میں امن بارے عمران خان نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کو حل کرنے کیلئے طاقت کے استعمال کے خلاف اپنے موقف پر قائم ہے۔ اور انہوں نے خطے میں کسی بھی قسم کے مزید تصادم سے بچنے کیلئے اپنے بھرپور عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان افغانستان میں آگ بجھانے اور مفاہمتی عمل کے لئے اپنا کردار ادا کرے گا تاکہ وہاں پر عوام کو تصادم کی صورتحال بچایا جاسکے۔

مزید خبریں