:ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف تباہ کن معاشی کارروائی کا اعلان امریکا کی اپنی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔بی بی سی کے مطابق انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں امریکا کے بڑھتے ہوئے سرکاری قرضے اور سود کی ادائیگیوں پر بڑھتے اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پرانی اور ناکام پالیسیوں کو دہرانے سے امریکا کو آئندہ …
ایران کے خلاف تباہ کن معاشی کارروائی کا اعلان امریکا کی اپنی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، ایرانی وزیر خارجہ

مزید خبریں
تہران ۔20اگست (اے پی پی):ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف تباہ کن معاشی کارروائی کا اعلان امریکا کی اپنی معاشی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔بی بی سی کے مطابق انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں امریکا کے بڑھتے ہوئے سرکاری قرضے اور سود کی ادائیگیوں پر بڑھتے اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پرانی اور ناکام پالیسیوں کو دہرانے سے امریکا کو آئندہ بھی شکست اور ایرانی عوام کی ناراضگی ہی حاصل ہوگی۔انھوں نے الزام لگایا کہ امریکی معاشی دہشت گردی پوری دنیا کی معیشت اور ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کا قومی قرض 400 کھرب ڈالر کی حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک غیر معمولی اور تباہ کن معاشی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ انھوں نے ایران کو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بھرپور موقع دیا تھا لیکن ایران اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ آج میں ایسی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی کا اعلان کر رہا ہوں جو اب تک کسی بھی ملک کے خلاف کی گئی ہے۔ یہ ایک معاشی جنگ اور غیر معمولی پیمانے پر تنہائی کی مہم ہوگی۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کی فوجی اور معاشی صلاحیت کو تباہ کرنے سے متعلق اپنے سابقہ بیانات کا اعادہ کرتے ہوئے لکھا کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کو ایران کو کسی بھی قسم کی مالی مدد فراہم کرنے کی اجازت دے گا، اسے خود بھی سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے تیل کی سمگلنگ، تیل بردار جہازوں کی تبدیلی، نقد رقم کی منتقلی، کرنسی ایکسچینج مراکز کا استعمال اور فرضی کمپنیوں کے نام پر جہازوں کی رجسٹریشن جیسے معاملات کا ذکر کیا۔








