واشنگٹن ۔12دسمبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے قومی ریگولیٹری فریم ورک جاری کرنے سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے ہیں ، جس کا مقصد اس شعبہ میں ریاستوں کے اختیارات کو محدود کرتے ہوئے ملک میں یکساں پالیسی نافذ کرنا ہے۔ شنہوا کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ امریکی اے آئی کمپنیوں کو ترقی اور جدت کے …
امریکی صدر نے مصنوعی ذہانت کے لیے قومی ریگولیٹری فریم ورک جاری کرنے سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے

مزید خبریں
واشنگٹن ۔12دسمبر (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے قومی ریگولیٹری فریم ورک جاری کرنے سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے ہیں ، جس کا مقصد اس شعبہ میں ریاستوں کے اختیارات کو محدود کرتے ہوئے ملک میں یکساں پالیسی نافذ کرنا ہے۔ شنہوا کے مطابق ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ امریکی اے آئی کمپنیوں کو ترقی اور جدت کے لیے آزاد ماحول درکار ہے، جبکہ ریاستی سطح پر ضرورت سے زائد ریگولیشن اس عمل میں رکاوٹ بنتی ہے۔ آرڈر کے مطابق ریاست بہ ریاست قواعد و ضوابط کا موجودہ ’’پیچیدہ نظام‘‘ سٹارٹ اپس اور دیگر اداروں کے لیے تعمیل کے عمل کو مشکل بناتا ہے اور بعض ریاستی قوانین اداروں کو ماڈلز میں ’’نظریاتی تعصب‘‘ شامل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کانگریس کے ساتھ مل کر کم سے کم پابندیوں پر مبنی ایک قومی معیار کے نفاذ کے لیے کام کرے گی تاکہ 50 ریاستوں کے مختلف قوانین کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے۔ایگزیکٹو آرڈر میں اٹارنی جنرل پام بونڈی کو "اے آئی لٹیگیشن ٹاسک فورس” قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، جو ریاستی سطح پر بنائے گئے اے آئی قوانین کو چیلنج کرنے کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ آرڈر کے مطابق عدم تعمیل کی صورت میں ریاستیں وفاقی فنڈنگ میں کمی سمیت سزاؤں کا سامنا کر سکتی ہیں، خصوصاً براڈبینڈ ایکویٹی ایکسس اینڈ ڈیپلائمنٹ پروگرام سے محرومی کا خطرہ ہے، جو پورے ملک میں ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے اہم ہے۔
اس اقدام کو ٹیکنالوجی کمپنیوں، خصوصاً اوپن اے آئی اور گوگل کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے سخت ریاستی قواعد کے خلاف مؤقف اختیار کیے ہوئے تھیں۔ اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے مئی میں کانگریس کو بتایا تھا کہ ضرورت سے زائد ر قواعد امریکی اے آئی ترقی کو سست اور کمپنیوں کی صلاحیتوں کو کمزور کر سکتے ہیں۔سی این این کے مطابق وفاقی قانون سازی نہ ہونے کے باعث بعض ریاستیں پہلے ہی اے آئی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے قوانین بنا چکی ہیں، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈیریگولیشن کا یہ عمل کمپنیوں کو جواب دہی سے بچنے کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔








