وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر کی ملاقات

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے پاکستان میں امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر کی ملاقات

اسلام آباد۔6اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے پاکستان میں امریکہ کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے ملاقات کی جس میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ، عجائب گھروں کی ترقی، آثارِ قدیمہ کے تحفظ، ثقافتی تبادلوں اور مشترکہ ثقافتی منصوبوں کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وفاقی وزیر نے امریکی ناظم الامور کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو سراہا اور پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لئے امریکی حکومت کے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے پاکستان۔امریکہ ثقافتی املاک کے معاہدے پر کامیاب عملدرآمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی املاک کی غیرقانونی سمگلنگ کی روک تھام، ادارہ جاتی تعاون کے فروغ اور پاکستان کے قیمتی آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لئے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے گندھارا تہذیب سمیت پاکستان کے دیگر نایاب تاریخی نوادرات کی وطن واپسی میں امریکہ کے قیمتی تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ، اٹلی، فرانس اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک سے سینکڑوں تاریخی نوادرات کامیابی سے پاکستان واپس لائے جا چکے ہیں جبکہ آسٹریلیا سے مزید نوادرات کی واپسی کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ بیرونِ ملک موجود پاکستان کی ثقافتی املاک کی مزید وطن واپسی میں بھی اپنا تعاون جاری رکھے گا۔وفاقی وزیر نے پاکستان میں ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لئے جاری اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حکومتِ پاکستان جمہوریہ کوریا کے تعاون سے اسلام آباد میوزیم کو عالمی معیار کے جدید عجائب گھر میں تبدیل کر رہی ہےجہاں پاکستان کے بھرپور آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کو جامع انداز میں پیش کیا جائے گا جن میں امریکہ اور دیگر ممالک سے واپس لائے گئے تاریخی نوادرات بھی شامل ہوں گے۔

انہوں نے پاکستان میں ’’پاکستان۔امریکہ ثقافتی ہفتہ‘‘ منعقد کرنے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ دونوں ممالک کی بھرپور ثقافتی روایات کو اجاگر کیا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے امریکی ناظم الامور کو چترال کے عالمی شہرت یافتہ شندور پولو فیسٹیول سمیت پاکستان کے دیگر اہم ثقافتی میلوں میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ثقافتی تبادلے عوامی سطح پر روابط اور باہمی ہم آہنگی کو مزید فروغ دیں گے۔نیٹلی اے بیکر نے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی جانب سے پاکستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا بالخصوص اسلام آباد میوزیم میں وطن واپس لائے گئے نوادرات کی نمائش کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے لوک ورثہ میں منعقدہ ’’لبرٹی بیل نمائش‘‘ اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد میں تعاون پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور لوک میلہ میں اپنی شرکت کو یاد کرتے ہوئے پاکستان کی رنگا رنگ ثقافت، عوام کی مہمان نوازی اور ثقافتی تنوع کی تعریف کی۔

انہوں نے پاکستان کے ساتھ ثقافتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امریکی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مشترکہ ثقافتی سرگرمیوں کا سالانہ کیلنڈر مرتب کرنے کی تجویز دی جس میں نمائشیں، فنکاروں کے تبادلے، ثقافتی پرفارمنسز اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مشترکہ تقریبات شامل ہوں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں کام کرنے والی امریکی کمپنیاں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ثقافتی ورثے کے تحفظ، ثقافتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، بحالی کے منصوبوں اور بڑی نمائشوں کے انعقاد میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

پاکستان۔امریکہ ثقافتی املاک کے معاہدے کے تحت مشترکہ ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ طے شدہ شعبہ جات میں تعاون کو عملی منصوبوں کی صورت دی جائے تاکہ دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات مزید مستحکم ہوں۔اس موقع پر سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے امریکی ناظم الامور کو آگاہ کیا کہ وزارت مختلف ممالک سے پاکستان کے ثقافتی نوادرات کی وطن واپسی کے لئے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اکتوبر میں پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) میں وطن واپس لائے گئے تمام تاریخی نوادرات کی خصوصی نمائش منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کی اس اہم کامیابی کو اجاگر کیا جا سکے۔سیکرٹری قومی ورثہ نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ثقافتی تبادلوں میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور پاکستانی ثقافتی وفود باقاعدگی سے بیرونِ ملک پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ حکومتِ پاکستان مشترکہ ثقافتی پروگراموں کے لیے امریکی ثقافتی گروپس کا خیرمقدم کرے گی۔محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کے حکام نے امریکی ناظم الامور کو پاکستان کے قیمتی تاریخی نوادرات کی وطن واپسی کے قانونی طریقۂ کار، اعداد و شمار، بین الاقوامی تعاون اور ثقافتی املاک کی غیرقانونی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے مشترکہ ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد، مشترکہ نمائشوں کے انعقاد، ادارہ جاتی تعاون، ثقافتی تبادلوں کے فروغ اور مشترکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لئے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں جانب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ثقافتی سفارتکاری کے ذریعے باہمی اعتماد، خیرسگالی اور پاکستان و امریکہ کے عوام کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

مزید خبریں