امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے درآمد کنندگان کو 100 ارب ڈالر ٹیرف ریفنڈ ادا کر دیئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جولائی کے اختتام تک بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت وصول کیے گئے تقریباً 100 ارب امریکی ڈالر درآمدی ٹیرف کی مد میں امریکی درآمد کنندگان کو واپس کر دیئے ہیں ۔

واشنگٹن ۔6اگست (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جولائی کے اختتام تک بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت وصول کیے گئے تقریباً 100 ارب امریکی ڈالر درآمدی ٹیرف کی مد میں امریکی درآمد کنندگان کو واپس کر دیئے ہیں ۔

شنہوا کے مطابق یہ انکشاف عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز میں کیا گیا۔امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی ) کے اہلکار برینڈن لارڈ نے عدالت کو بتایا کہ 31 جولائی تک تقریباً 100 ارب ڈالرکی واپسی مکمل کی جا چکی ہے، جس میں اصل ٹیرف کے علاوہ اس پر واجب الادا سود بھی شامل ہے۔عدالتی دستاویز کے مطابق مزید128.68 ارب ڈالر مالیت کے ممکنہ اور تصدیق شدہ ریفنڈز بھی کنسولیڈیٹڈ ایڈمنسٹریشن اینڈ پروسیسنگ آف اینٹریز (سی اے پی ای ) نظام کے ذریعے پراسیس کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے تقریباً 11 مئی سے ٹیرف ریفنڈز کی ادائیگی شروع کی، جب امریکی سپریم کورٹ نے 20فروری کو فیصلہ دیا کہ آئی ای ای پی اےکے تحت صدر ٹرمپ کی نافذ کردہ ٹیرف پالیسی آئین سے مطابقت نہیں رکھتی۔اس سے قبل یونیورسٹی آف پنسلوانیاکے وارٹن سکول کے پین وارٹن بجٹ ماڈل نے اندازہ لگایا تھا کہ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کو مجموعی طور پر175 ارب ڈالر تک کے آئی ای ای پی اے ٹیرف ریفنڈز ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔

مزید خبریں