امریکی صدر کا نامعلوم اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق سے متعلق سرکاری فائلیں جاری کرنے کا اعلان

واشنگٹن ۔20فروری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹر مپ نے یو ایف اوز(اڑن طشتریوں ) اور خلائی مخلوق سے متعلق سرکاری فائلیں جاری کرنے کا اعلان کیاہے ۔ اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ وفاقی اداروں کو ہدایت دے رہے ہیں کہ یو ایف اوز اور خلائی مخلوق سے متعلق سرکاری ریکارڈ کی نشاندہی کرکے انہیں جاری کرنے کا عمل شروع کیا جائے، جس …

واشنگٹن ۔20فروری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹر مپ نے یو ایف اوز(اڑن طشتریوں ) اور خلائی مخلوق سے متعلق سرکاری فائلیں جاری کرنے کا اعلان کیاہے ۔ اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ وفاقی اداروں کو ہدایت دے رہے ہیں کہ یو ایف اوز اور خلائی مخلوق سے متعلق سرکاری ریکارڈ کی نشاندہی کرکے انہیں جاری کرنے کا عمل شروع کیا جائے، جس کا مطالبہ بعض امریکی حلقے دہائیوں سے کرتے آرہے ہیں۔امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ عوامی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت دے رہے ہیں کہ وہ خلائی مخلوق، ماورائے ارض زندگی، نامعلوم فضائی مظاہر (یواے پی ) اور نامعلوم اڑن طشتریوں سے متعلق سرکاری فائلوں کی نشاندہی اور اجرا کا عمل شروع کریں۔

انہوں نے واضح نہیں کیا کہ آیا خفیہ دستاویزات بھی منظرِ عام پر لائی جائیں گی یا نہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں دستیاب تمام معلومات شامل ہونی چاہئیں۔اس سے قبل امریکی صدرنے اپنے پیش رو باراک اوباما پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے حالیہ پوڈکاسٹ گفتگو میں خفیہ معلومات کا انکشاف کیا۔ اوباما نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ف اوزحقیقی ہیں، لیکن میں نے انہیں نہیں دیکھا اور نہ ہی انہیں ایریا 51 میں رکھا گیا ہے۔انہوں نے مشہور امریکی فوجی اڈے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کوئی زیرِ زمین خفیہ مرکز موجود نہیں، الا یہ کہ کوئی بہت بڑی سازش ہو جسے صدر سے بھی مخفی رکھا گیا ہو۔امریکی صدر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ باراک اوباما نے خفیہ معلومات ظاہر کرکے غلطی کی ہےتاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سی بات خفیہ زمرے میں آتی ہے۔

دوسری جانب خود صدر ٹرمپ نے خلائی مخلوق کے وجود سے متعلق اپنے مؤقف پر کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ حقیقی ہیں یا نہیں۔واضح رہے کہ اب تک زمین سے باہرذہانت رکھنے والی حیات کے وجود کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔ حالیہ برسوں میں امریکی حکومت نے نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق متعدد رپورٹس کی جانچ کی ہے، خاص طور پر اس خدشے کے پیشِ نظر کہ کہیں یہ جدید ٹیکنالوجی دشمن ممالک کی آزمائش تو نہیں۔مارچ 2024 میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگو ن کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نامعلوم فضائی مظاہر کے خلائی ٹیکنالوجی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور بیشتر واقعات موسمی غباروں، جاسوس طیاروں، سیٹلائٹس یا دیگر معمول کی سرگرمیوں سے متعلق نکلے۔