سان فرانسسکو۔18اکتوبر (اے پی پی):امریکی عدالت نے اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی این ایس او گروپ پر جاسوسی سافٹ وئیر کے ذریعے واٹس ایپ صارفین کو نشانہ بنانے پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم 168 ملین ڈالر کے ہرجانے کو کم کرکے صرف 4 ملین ڈالر کر دیا گیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ڈسٹرکٹ جج فیلس ہیملٹن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ این ایس او گروپ کا …
امریکی عدالت نے اسرائیلی کمپنی کو واٹس ایپ پر جاسوسی سافٹ ویئر نصب کرنے سے روک دیا

مزید خبریں
سان فرانسسکو۔18اکتوبر (اے پی پی):امریکی عدالت نے اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی این ایس او گروپ پر جاسوسی سافٹ وئیر کے ذریعے واٹس ایپ صارفین کو نشانہ بنانے پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم 168 ملین ڈالر کے ہرجانے کو کم کرکے صرف 4 ملین ڈالر کر دیا گیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ڈسٹرکٹ جج فیلس ہیملٹن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ این ایس او گروپ کا رویہ مالی جرمانے کے لیے درکار غیر معمولی سنگینی کے معیار پر پورا نہیں اترتا تاہم عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کمپنی کا طرز عمل ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن رہا ہے اور چونکہ یہ سرگرمیاں جاری ہیں، اس لیے واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا کے حق میں پابندی کا حکم جاری کیا گیا۔
واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھکارٹ نے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہاکہ آج کا فیصلہ اسپائی ویئر بنانے والی این ایس او گروپ کو ہمیشہ کے لیے واٹس ایپ اور ہمارے عالمی صارفین کو نشانہ بنانے سے روک دیتا ہے، ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں جو چھ سالہ قانونی جنگ کے بعد انصاف کے حصول کی ایک بڑی کامیابی ہے۔عدالتی شواہد کے مطابق این ایس او گروپ نے واٹس ایپ کے کوڈ کو ریورس انجینئر کر کے صارفین کے فونز میں خفیہ طور پر اسپائی ویئر نصب کیا۔
عدالت نے کہا کہ یہ سافٹ ویئر بار بار اس انداز میں دوبارہ تیار کیا گیا کہ وہ واٹس ایپ کی سکیورٹی اپ ڈیٹس اور دفاعی نظام سے بچ سکے۔یہ مقدمہ 2019 کے اواخر میں دائر کیا گیا تھا جس میں کمپنی پر الزام تھا کہ وہ صحافیوں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگر صارفین پر سائبر جاسوسی کر رہی تھی تاہم جج ہیملٹن نے 168 ملین ڈالر کے ہرجانے کو غیر مناسب اور حد سے زیادہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
انہوں نے لکھا کہ اسمارٹ فون دور میں غیر قانونی الیکٹرانک نگرانی سے متعلق اتنے زیادہ مقدمات ابھی تک سامنے نہیں آئے کہ عدالت اس نتیجے پر پہنچ سکے کہ مدعا علیہان کا طرزِ عمل غیر معمولی طور پر سنگین تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے میں اس طرح کے طرزِ عمل کے قابل قبول ہونے یا نہ ہونے پر ایک متفقہ نقطۂ نظر ابھر سکتا ہے۔








