واشنگٹن۔19فروری (اے پی پی):امریکا کی قومی سلامتی کے سینئر حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ امریکی فوج ہفتہ کے دن تک ایران پر ممکنہ حملے کے لیے تیار ہے تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے حملے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ بی بی سی نے امریکا میں اپنے پارٹنرادارے سی بی ایس نیوز کے حوالے سے بتایا کہ ممکنہ کارروائی کے حتمی …
امریکی فوج ایران پر ممکنہ حملے کے لئے تیار ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ

مزید خبریں
واشنگٹن۔19فروری (اے پی پی):امریکا کی قومی سلامتی کے سینئر حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ امریکی فوج ہفتہ کے دن تک ایران پر ممکنہ حملے کے لیے تیار ہے تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے حملے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ بی بی سی نے امریکا میں اپنے پارٹنرادارے سی بی ایس نیوز کے حوالے سے بتایا کہ ممکنہ کارروائی کے حتمی وقت کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور یہ ہفتہ کے روز سے آگے بھی جا سکتا ہے۔حکام نے سی بی ایس کو مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ابھی تک ایران پر حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جبکہ وائٹ ہاؤس میں اس معاملے پر مسلسل مشاورت جاری ہے، جہاں اس اقدام سے منسلک خطرات، ممکنہ ردعمل اور حملے کے سیاسی و عسکری نتائج پر غور کیا جا رہا ہے۔
پینٹاگون آئندہ تین دنوں میں مشرقِ وسطیٰ سے کچھ اہلکاروں کو عارضی طور پر یورپ یا امریکا منتقل کر رہا ہے تاکہ اگر کارروائی کی جاتی ہے تو ایسے میں ایران کے ممکنہ جوابی حملوں سے بچا جا سکے۔امریکی ذرائع کے مطابق یہ اقدام معمول کی تیاری کا حصہ ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ حملہ فوری طور پر ہونے والا ہے۔پینٹاگون کے ترجمان نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ایران پر حملے کے کئی جواز موجود ہیں لیکن صدر کی پہلی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری ہے ۔ انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا کارروائی اسرائیل کے ساتھ مل کر کی جائے گی یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے مزید کہا کہ جون میں امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر ایک کامیاب آپریشن کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ اور تعاون کرے۔ذرائع کے مطابق بدھ کو وائٹ ہاؤس کے سچوایشن روم میں ایران کے حوالہ سے صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ تمام امریکی فوجی دستے مارچ کے وسط تک خطے میں اپنی جگہ پر موجود ہوں گے۔دریں اثنا وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ امریکا آئندہ چند ماہ کے دوران شام میں موجود اپنی فوج کو بڑی حد تک واپس بلانے کی تیاری کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شامی حکومت نے اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گردی کے خلاف لڑائی کی قیادت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور اب وہاں بڑے پیمانے پر امریکی فوجی موجودگی کی ضرورت نہیں رہی۔واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی مہم کے تحت داعش کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکی فوجی 2015 سے شام میں موجود ہیں۔یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔گائیڈڈ میزائلوں اور درجنوں لڑاکا طیاروں سے لیس امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن ایران کے قریب موجود ہے۔
امریکا نے دنیا کے سب سے بڑے جنگی بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کو بھی مشرق وسطیٰ بھیج دیا ہے اور توقع ہے کہ یہ جہاز تین ہفتوں کے اندر خطے میں پہنچ جائے گا۔وائٹ ہاؤس اہلکار نے بتایا کہ شام سے تقریباً ایک ہزار باقی فوجیوں کو ہٹانے کا فیصلہ شرائط پر مبنی منتقلی کا حصہ ہے اور امریکا خطے میں کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار رہے گا۔جنوبی شام کے ال تنف گیریژن اور شمال مشرقی شام کے ال شدادی بیس سے امریکی فوجی اس سال کے اوائل میں ہی نکل چکے ہیں۔دوسری طرف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہاہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بات بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہی۔ ایرانی وزیر اور آئی اے ای اے کے سربراہ کے درمیان یہ بات چیت جنیوا میں عمان کی ثالثی میں تہران اور واشنگٹن کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد ہوئی ہے۔منگل کو ایرانی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران اور امریکا نے تنازعات کو روکنے کے لیے معاہدے کے رہنما اصولوں پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے ایران نے ابھی تک امریکا کی تمام ریڈ لائنزکو قبول نہیں کیا ہے۔دوسری جانب امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیےامریکا کو جو بھی کرنا پڑا وہ کرے گا ۔








