انتہاپسندانہ رویوں سے حقوق حاصل نہیں ہوتے، ہمیں نظام میں رہتے ہوئے حقوق حاصل کرنا ہوں گے، بلاول بھٹو زرداری

"چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جاری احتجاج کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، احتجاج ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے، آئیں بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔”

مظفرآباد۔15جولائی (اے پی پی):پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی نےایک ماہ سے زائد تک احتجاج کا ریکارڈ بنا لیا ہے، احتجاج تاحیات نہیں ہوتے، اب اس احتجاج کو ختم کریں، آئیں بات کریں،

تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ انتہاپسندانہ رویوں سے ہمیں حقوق حاصل نہیں ہوتے، ہمیں نظام میں رہتے ہوئے حقوق حاصل کرنا ہوں گے۔پیپلز پارٹی آزادکشمیر میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق بلاول بھٹو کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیر میں ریاستی حکام، پارٹی عہدیداران و ٹکٹ ہولڈرز کا اجلاس منعقد ہوا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف، صدر ریاست چوہدری لطیف اکبر، وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور، صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین ، سینئر رہنما پی پی پی چوہدری محمد ریاض ،سینئر وزیر میاں وحید ودیگر موجودتھے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی رہنمائوں نے آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہم پورے آزاد جموں و کشمیر میں بھرپور انتخابی مہم چلارہے ہیں،آزاد جموں و کشمیر کے ہر انتخابی حلقے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار موثر انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھمبر سے تائو بٹ تک آزاد جموں و کشمیر میں صرف پاکستان پیپلزپارٹی نظر آرہی ہے،پاکستان پیپلزپارٹی ہر دور میں کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے،آزاد کشمیر آنے سے قبل میں نے نائب وزیراعظم سے یہاں کے عوام میں اشیاء خوردونوش کی فراہمی کے مسائل کے حل کے حوالے سے بات کی ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے 30 دن تک احتجاج کا ریکارڈ بنالیا، احتجاج تاحیات کیلئے نہیں ہوتے، اب اس احتجاج کو ختم کریں، آئیں بات کریں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابی عمل سے بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کے عمل کی مذمت کرتے ہیں،آزاد کشمیر اپنے نام میں آزاد ہے مگر عملی طور پر گرانٹس پر چلتا ہے،سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہوگا کہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کی امیدوں کو کیسے پورا کرنا ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کے نوجوانوں کی امیدوں کی تکمیل نہیں ہوگی تو انتشاری قوتیں فائدہ اٹھائیں گی،آزاد کشمیر کی نئی نسل سٹیٹس کو سے مطمئن نہیں ہے، ان کو پرانی تنخواہ پر نہیں چلایا جاسکتا،میں چاہتا ہوں کہ قومی اسمبلی میں آزاد کشمیر کی آبزرور کے طور پر سہی، ایک عبوری نمائندگی ہو۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی میں آزاد کشمیر کی عبوری نمائندگی ہوگی تو جب کسی دوسرے صوبے کا فرد کون کشمیری ہے یا کون نہیں کا فیصلہ کررہا ہوگا تو راولاکوٹ والا اپنی تاریخ بتاسکے گا،اگر این ایف سی کے فورم پر آزاد کشمیر کا نمائندہ ہوتا تو وہ یہاں کے عوام کے لئے آواز بلند کرتا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابات کے بعد آئینی فورم کا انعقاد ہونا چاہئے جس میں کشمیر سے متعلق تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر کشمیری عوام فیصلے کریں، وفاقی وسائل اور دوسری سیاسی جماعتوں سے اتفاق رائے کے علاوہ آزاد کشمیر کی حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے مطالبات سو فیصد پورے کئے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں آزاد جموں و کشمیر میں ایم کیوایم اور الطاف حسین والی سیاست نہیں دیکھنا چاہتا،میں آزاد کشمیر کے انتخابات تک کہیں نہیں جارہا، میں یہیں آزاد کشمیر میں رہوں گا۔