لندن ۔21فروری (اے پی پی):برطانیہ نے کہا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے افراد متنازعہ نئے امیگریشن قوانین کے نفاذ کے بعد ایئرلائنز کو اپنی برطانوی شہریت ثابت کرنے کے لیے زائد المیعاد برٹش پاسپورٹ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔اردو نیوز نے برطانوی وزارت داخلہ داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ نئے قوانین (جو آئندہ بدھ سے نافذ العمل ہوں گے)کے تحت ملک میں داخل ہونے والے ہر اس شخص …
اندرون ملک سفر کے لیے زائد المیعاد برطانوی پاسپورٹ بھی شہریت کے ثبوت کے طور پر قابلِ قبول ہے، وزارت داخلہ

مزید خبریں
لندن ۔21فروری (اے پی پی):برطانیہ نے کہا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے افراد متنازعہ نئے امیگریشن قوانین کے نفاذ کے بعد ایئرلائنز کو اپنی برطانوی شہریت ثابت کرنے کے لیے زائد المیعاد برٹش پاسپورٹ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔اردو نیوز نے برطانوی وزارت داخلہ داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ نئے قوانین (جو آئندہ بدھ سے نافذ العمل ہوں گے)کے تحت ملک میں داخل ہونے والے ہر اس شخص کو جو دوہری شہریت رکھتا ہو طیارے، بحری جہاز یا ٹرین میں سوار ہوتے وقت برطانوی پاسپورٹ پیش کرنا ہوگا یا پھر اپنے غیرملکی پاسپورٹ کے ساتھ 589 پاؤنڈ فیس کے عوض حاصل کردہ سرٹیفکیٹ آف انٹائٹلمنٹ منسلک کرنا ہوگا۔
ایئرلائنز اور دیگر ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو اس صورت میں جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر وہ ایسے مسافروں کو سوار کریں جنہیں ملک میں داخلے کا حق حاصل نہ ہو۔لبرل ڈیموکریٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ افراد کو نئے پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے مہلت دی جائے کیونکہ یہ عمل کئی ہفتوں پر محیط ہو سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس کے امیگریشن اور پناہ کے ترجمان ول فورسٹر نے کہا کہ ان تبدیلیوں نے بہت سے دوہری شہریت رکھنے والوں کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت اس افراتفری کو درست نہیں کرتی اسے چاہیے کہ ایک عبوری مہلت دے کیونکہ بہت سے دوہرے شہری انتہائی تکلیف دہ حالات میں ہیں جو بیمار اہلِ خانہ سے ملنے یا شادیوں اور جنازوں میں شرکت سے قاصر ہیں۔ حکومت کو موجودہ نظام کے مقابلے میں کم لاگت اور قابلِ برداشت متبادل بھی فوری طور پر فراہم کرنا چاہیے۔خیال رہے کہ برطانوی اور آئرش دوہری شہریت رکھنے والے افراد ان نئے قواعد سے متاثر نہیں ہوں گے۔وزارت داخلہ نےبیان میں کہا کہ ایئرلائن کمپنیاں اپنی صوابدید پر ایک زائد المیعاد برطانوی پاسپورٹ کو متبادل دستاویز کے طور پر قبول کر سکتی ہیں،یہ ٹھیک غیرملکی پاسپورٹ کے علاوہ ہو گا جو نئے قوانین کے بغیر داخلے کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا۔








