انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی شعبوں کے درمیان مربوط اقدامات کے بغیر مستقبل کی وباؤں کی روک تھام ممکن نہیں، محمد اسلم غوری

اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):وفاقی سیکرٹری وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ محمد اسلم غوری نے پاکستان کے ’’ون ہیلتھ‘‘ نظام کو فوری طور پر مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی شعبوں کے درمیان مربوط اقدامات کے بغیر مستقبل کی وباؤں کی روک تھام ممکن نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کامسٹک کے زیرِ اہتمام منعقدہ ’’ون ہیلتھ‘‘ طریقۂ کار …

اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):وفاقی سیکرٹری وزارتِ قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ محمد اسلم غوری نے پاکستان کے ’’ون ہیلتھ‘‘ نظام کو فوری طور پر مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی شعبوں کے درمیان مربوط اقدامات کے بغیر مستقبل کی وباؤں کی روک تھام ممکن نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کامسٹک کے زیرِ اہتمام منعقدہ ’’ون ہیلتھ‘‘ طریقۂ کار کے تحت وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری سے متعلق دو روزہ قومی تربیتی ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی سیکرٹری صحت نے کہا کہ حالیہ عالمی صحت کے ہنگامی حالات نے تیاری کے نظام میں موجود کمزوریوں سے آگاہی فراہم کی ہے جس کے باعث مربوط نگرانی، افرادی قوت کی ترقی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ وباؤں سے نمٹنے کی تیاری اب کسی ایک شعبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی ترجیح بن چکی ہے جس کے لئے مسلسل باہمی تعاون ضروری ہے۔

اس سے قبل وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے ادارہ جاتی استعداد کار بڑھانے اور شواہد پر مبنی حکمتِ عملی اپنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی تاکہ ابھرتے ہوئے صحت عامہ کے خطرات سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔اس موقع پر نیشنل کوآرڈینیٹر ون ہیلتھ ورک فورس ڈویلپمنٹ اینڈ کوآرڈینیشن پراجیکٹ نے کہا کہ یہ اقدام قومی صحت کے تحفظ کی جانب ایک انقلابی قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی، تیز رفتار شہری پھیلاؤ اور انسان و حیوان کے بڑھتے ہوئے روابط کے باعث پاکستان میں متعدی امراض کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 75 فیصد ابھرتے ہوئے متعدی امراض جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں جس سے مربوط نگرانی کے نظام اور مشترکہ ردعمل کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔

ان کے مطابق اس پروگرام کا مقصد ایک ایسی تربیت یافتہ کثیر شعبہ جاتی افرادی قوت تیار کرنا ہے جو بروقت نشاندہی، فوری ردعمل اور مؤثر انداز میں وباؤں پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ماحولیاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (ماحولیات/موسمیاتی تبدیلی)نے کہا کہ ماحولیاتی تنزلی، ناقص ویسٹ مینجمنٹ اور موسمیاتی تغیرات پاکستان میں بیماریوں کے رجحانات کو تیزی سے متاثر کر رہے ہیں، اس لئے صحت عامہ کی منصوبہ بندی میں ماحولیاتی نگرانی کو شامل کرنا ناگزیر ہے۔دریں اثناء پاکستان ون ہیلتھ الائنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کہا کہ ماضی میں مختلف شعبوں کے درمیان عدم ربط نے وباؤں سے نمٹنے میں تاخیر کا سبب بنایا، اس لئے مربوط اور ہم آہنگ نظام کی تشکیل ناگزیر ہے۔

دو روزہ تربیتی پروگرام میں ماحولیات، صحت اور دیگر متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین شریک ہیں جبکہ اس میں زونوٹک امراض کے خطرات، ویکٹر ایکالوجی، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ صحت کے نظام، نگرانی، وبائی انٹیلی جنس اور رسک کمیونیکیشن جیسے موضوعات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔حکام کے مطابق اس پروگرام میں تکنیکی سیشنز، گروپ ورک اور جائزہ سرگرمیاں شامل ہیں جن کا مقصد تربیت یافتہ ماہرین اور ٹرینرز کی ایک ایسی ٹیم تیار کرنا ہے جو ملک بھر میں ’’ون ہیلتھ‘‘ حکمتِ عملی کے فروغ میں کردار ادا کرے۔ورکشاپ 8 اپریل کو اسناد کی تقسیم کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔