بھارت کا یومِ آزادی، مقبوضہ کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں بائیکاٹ، ’’ایک بھارت‘‘ کے بیانیے کو چیلنج

"بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت شمال مشرقی ریاستوں میں ہڑتالوں، بائیکاٹ اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ مختلف علاقائی تنظیموں نے 15 اگست کو ’’یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر منایا۔”

اسلام آباد۔15اگست (اے پی پی):بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت بھارت کی متعدد شمال مشرقی ریاستوں میں ہڑتالوں،بائیکاٹ اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ مختلف علاقائی تنظیموں نے 15 اگست کو ’’یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر منایا۔

ہفتہ کو میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر، سکھ برادری اور شمال مشرقی علاقوں میں سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے مکمل شٹر ڈاؤن اور یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ کی اپیلوں نے بھارتی حکومت کے ’’ایک بھارت‘‘ کے سرکاری بیانیے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔رپورٹس میں نئی دہلی میں جاری سیاسی اختلافات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ بھارتی اپوزیشن کی اہم شخصیات جن میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور قائد حزب اختلاف راہول گاندھی شامل ہیں، وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت یومِ آزادی کی سرکاری تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی عدم شرکت نشستوں کے انتظامات اور سیاسی کشیدگی سے متعلق تنازعات کا نتیجہ ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آسام، ناگالینڈ، منی پور اور اروناچل پردیش سمیت شمال مشرقی ریاستوں میں سرگرم قوم پرست اور علیحدگی پسند تنظیموں نے سرکاری تقریبات کے مکمل بائیکاٹ اور عام ہڑتال کی کال دی۔ناگالینڈ میں قوم پرست حلقوں نے 14 اگست کو اپنا 80واں ’’یومِ آزادی‘‘ منایا اور 1947 میں ناگا نیشنل کونسل کی جانب سے آزادی کے اعلان کی یاد تازہ کی۔ ناگا گروہوں کا مؤقف ہے کہ ان کی اپنی تاریخ، پرچم اور سیاسی شناخت بھارتی ریاست میں انضمام سے قبل کی ہے جبکہ وہ 1951 کے استصوابِ رائے کو حقِ خود ارادیت کے لیے عوامی مینڈیٹ قرار دیتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں نوجوانوں کو بھارتی قومی پرچم کے خلاف احتجاج کرتے دیکھا گیاجبکہ ناگا رہنما تھوئنگالنگ موئیوا نے ایک بار پھر واضح کیا کہ خودمختاری، قومی پرچم اور الگ آئین کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ناگا اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے لازمی طور پر ’’وندے ماترم‘‘ گانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے مسیحی عقائد، مذہبی آزادی اور ضمیر کی آزادی کے منافی قرار دیا۔منی پور میں چھ تنظیموں کی نمائندہ کوآرڈینیشن کمیٹی، سوشلسٹ ریوولوشنری پارٹی، الائنس فار سوشلسٹ یونٹی کنگلیپک اور مقامی ناگا طلبہ تنظیموں سمیت مختلف گروپوں نے 12 گھنٹے کی عام ہڑتال اور مکمل شٹر ڈاؤن نافذ کیا جبکہ اہم اضلاع میں سیاہ پرچم لہرائے گئے۔آسام اور ملحقہ سرحدی علاقوں میں یو ایل ایف اے (انڈیپنڈنٹ) سمیت مختلف تنظیموں نے این ایس سی ا ین کے ساتھ مل کر مکمل شٹر ڈاؤن کی اپیل کی اور بھارتی انتظامی موجودگی کو ’’نوآبادیاتی قبضہ‘‘ قرار دیا۔بائیکاٹ کی کال کے بعد بالائی آسام اور اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں اہم تنصیبات اور حساس مقامات کے گرد سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔تجزیہ کاروں کے مطابق کشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں سیاہ پرچموں کی نمائش، عوامی عدم شرکت اور سول مزاحمت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ قومی اتحاد محض سکیورٹی کی موجودگی، فوجی مظاہروں یا سرکاری تقریبات کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ان کا کہنا ہے کہ حقیقی قومی یکجہتی کے لیے باہمی رضامندی، علاقائی، ثقافتی اور سیاسی شناختوں کا احترام ضروری ہے جبکہ جبری انضمام کے بجائے مختلف اکائیوں کے حقوق اور خواہشات کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔