ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی سرپرستی میں پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن اور این سی اے کے اشتراک سے نمائش کا انعقاد
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی سرپرستی میں پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن اور این سی اے کے اشتراک سے نمائش کا انعقاد
لاہور۔15اگست (اے پی پی):ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی سرپرستی میں پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن اور نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کے اشتراک سے پہلی مرتبہ ’’رعنائیِ خیال و خط ‘‘ کے عنوان سے شاندار مشترکہ آرٹ نمائش کا انعقاد کیا گیا ۔ نمائش میں دونوں تاریخی اور ممتاز فنونِ لطیفہ کے اداروں سے وابستہ اساتذہ اور ایلومینائی کے تخلیقی فن پاروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر پیش کیا گیا۔یہ نمائش پنجاب یونیورسٹی اور نیشنل کالج آف آرٹس کے درمیان علمی، فنی اور تخلیقی تعاون کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ہے۔
نمائش کا انعقاد وائس چانسلر نیشنل کالج آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر مرتضی جعفری اور پرنسپل پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ نسیم کی قیادت میں مشترکہ طور پر کیا گیا۔نمائش کی افتتاحی تقریب میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، وائس چانسلر نیشنل کالج آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر مرتضی جعفری، پرنسپل پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ نسیم، دونوں اداروں کے اساتذہ، طلبا طالبات، ایلومینائی اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ معروف شخصیات نے شرکت کی۔چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن میں نمائش کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
دونوں اداروں کے نمائش گاہوں میں پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن اور نیشنل کالج آف آرٹس کے اساتذہ اور ایلومینائی کے تخلیق کردہ 300 سے زائد پینٹنگز، مجسمے اور دیگر فن پارے آویزاں کیے گئے ہیں۔ نمائش میں مختلف میڈیمز اور فنون کے انداز شامل ہیں، جن میں پینٹنگ، منی ایچر پینٹنگ، مجسمہ سازی اور انسٹالیشنز نمایاں ہیں۔ فن پاروں کے سائز، تکنیک، موضوعات اور انداز میں موجود تنوع نے نمائش کو مزید خوبصورت اور بامعنی بنا دیا ہے۔نمائش کا مشاہدہ کرنے والے مہمانوں، طلبہ، اساتذہ اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد نے فن پاروں کو سراہا اور دونوں اداروں کے فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کی بھرپور تعریف کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ہائیرایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ ان کی دیرینہ خواہش تھی کہ نیشنل کالج آف آرٹس اور پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن باہمی تعاون کے ذریعے آگے بڑھیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں کے اشتراک سے منعقد ہونے والی یہ نمائش دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فنکار معاشرے کی مختلف جہتوں کو بہترین اور موثر انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی فنکاروں کے فن اور تخلیقی کام کو نہ صرف ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ دنیا پاکستانی فنکاروں کی صلاحیتوں اور تخلیقی استعداد سے آگاہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ نمائش اس بات کی بہترین مثال ہے کہ تعلیمی ادارے باہمی تعاون کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں، جدت اور فنونِ لطیفہ کے فروغ کے لیے موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھے کام کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی ہونی چاہیے اور اس طرح کے اقدامات نوجوان فنکاروں اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے پاکستانی نوجوانوں کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی طلبہ یورپی یونین کی سکالرشپس حاصل کرنے والے طلبہ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور سخت مسابقت کے بعد بڑی تعداد میں سکالرشپس حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی گریجویٹس کے معیار کا جائزہ لینے والوں کو اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ پاکستانی جامعات کے گریجویٹس کو بین الاقوامی سطح پر بڑی تعداد میں سکالرشپس کا ملنا ان کی تعلیمی صلاحیتوں اور معیار کا اعتراف ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کی ابھرتے ہوئے شعبوں میں صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کمپیوٹر سائنس اور دیگر ڈیجیٹل شعبوں میں پاکستانی نوجوانوں نے غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان رواں سال ڈیجیٹل اکانومی کے ذریعے 5.6 ارب ڈالر کی ریمیٹنسز حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے اور پاکستانی نوجوان اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی جامعات کے گریجویٹس دنیا کی معروف جامعات میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں تدریسی خدمات بھی انجام دے رہے ہیں، جن میں دنیا کی ممتاز یونیورسٹی میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) بھی شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا ٹیلنٹ کسی سے کم نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی مقصد کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن جلد ہی ملک بھر کی جامعات کی جانب سے تیار کردہ مصنوعات، اختراعات اور تخلیقی کاموں کی نمائش کا انعقاد کرے گا۔انہوں نے نمائش میں رکھے گئے فن پاروں کو سراہتے ہوئے فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں، فنی اظہار اور فنونِ لطیفہ کے فروغ کے لیے ان کی کاوشوں کی تعریف کی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن اور نیشنل کالج آف آرٹس کے اشتراک سے پہلی مرتبہ اس نوعیت کی شاندار اور اہم آرٹ نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس نمائش کا سب سے اہم اور خوبصورت پہلو یہ ہے کہ دو بڑے اور تاریخی تعلیمی و فنی ادارے پہلی مرتبہ اس نوعیت کے منصوبے کے لیے ایک ساتھ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مشترکہ اقدامات تعلیمی اداروں اور تخلیقی شعبے کے درمیان مضبوط روابط کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔وائس چانسلر نیشنل کالج آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر مرتضی جعفری نے کہا کہ رعنائیِ خیال و خط دونوں اداروں کے درمیان علمی، تخلیقی اور فنی روابط کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نمائش کے ذریعے دونوں اداروں کے ایلومینائی اور فیکلٹی ممبران کے تخلیقی کام کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنونِ لطیفہ کے فروغ اور فنکاروں، طلبہ، اساتذہ اور عوام کے درمیان تخلیقی مکالمے کے لیے اس طرح کے اقدامات انتہائی اہم ہیں۔پرنسپل پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ نسیم نے کہا کہ یہ نمائش دونوں اداروں کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے اور آرٹ اینڈ ڈیزائن کے شعبے میں باہمی تفہیم اور علمی تعاون کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ نمائش کے ذریعے دونوں اداروں کے اساتذہ اور ایلومینائی کو اپنے تخلیقی کام کو پیش کرنے، دیگر فنکاروں سے تبادلہ خیال کرنے اور فنکارانہ اظہار کے مختلف طریقوں کو اجاگر کرنے کا موقع ملا ہے۔یہ نمائش پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن اور نیشنل کالج آف آرٹس کے فنونِ لطیفہ اور ڈیزائن کے فروغ، علمی و تخلیقی روابط کے استحکام اور فنکارانہ اظہار کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔نمائش کو پاکستان کے یومِ آزادی کے حوالے سے بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ جہاں پوری قوم یومِ آزادی کو جوش و جذبے اور ملی جوش کے ساتھ منا رہی ہے، وہیں فنکار برادری نے رنگوں، لکیروں، اشکال اور منفرد تخلیقی خیالات کے ذریعے آزادی کے جذبے، قومی شناخت اور حب الوطنی کا اظہار کیا ہے۔
نمائش میں موجود ایک فن پارے نے خاص طور پر شرکا کی توجہ حاصل کی، جس میں ایک خوبصورت قدرتی ماحول میں پرندوں اور پھلوں کو دکھایا گیا ہے۔ یہ فن پارہ آزادی، نعمتوں اور زندگی کی فراوانی کی علامت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ رنگوں کا خوبصورت امتزاج اسے مزید دلکش بناتا ہے۔نمائش میں فگرٹیو آرٹ بھی نمایاں رہا، جس کے ذریعے انسانی جذبات اور معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوں کو انسانی اشکال، کمپوزیشن، لکیروں اور ساخت کے ذریعے پیش کیا گیا۔ بعض فن پاروں میں فنکاروں نے رنگوں اور ساخت کے ذریعے ایک مکمل کہانی بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ایبسٹریکٹ آرٹ نے بھی نمائش میں ایک منفرد جہت پیدا کی۔ لکیروں، رنگوں اور اشکال کے امتزاج کے ذریعے فنکاروں نے روایتی اندازِ اظہار سے ہٹ کر مختلف خیالات اور جذبات کو پیش کیا۔ ایک فن پارے میں آزادی کے تصور کو غیر روایتی بصری زبان کے ذریعے پیش کیا گیا، جو ناظر کو غور و فکر اور اپنی تشریح کرنے کی دعوت دیتا ہے۔نمائش میں رکھے گئے فن پاروں کا تنوع دونوں اداروں میں موجود فنکارانہ صلاحیتوں کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
تفصیلی منی ایچر پینٹنگز سے لے کر بڑے پیمانے کی پینٹنگز، مجسمہ سازی اور انسٹالیشنز تک، نمائش نے شائقینِ فن کو فنکارانہ اظہار کا ایک بھرپور اور متنوع تجربہ فراہم کیا۔تقریب میں اساتذہ، فنکاروں، طلبہ،ایلومینائی اور فنونِ لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ دونوں اداروں کے نمائندگان اور ارکان کی شرکت نے تقریب کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا اور پنجاب یونیورسٹی اور نیشنل کالج آف آرٹس کے درمیان مستقبل میں مزید تعاون کے امکانات کو نمایاں کیا۔
پنجاب یونیورسٹی کالج آف آرٹ اینڈ ڈیزائن اور نیشنل کالج آف آرٹس کے درمیان ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سرپرستی میں منعقد ہونے والی یہ پہلی مشترکہ نمائش تخلیقی صلاحیتوں، فنکارانہ مہارت اور ادارہ جاتی تعاون کے جشن کے طور پر سامنے آئی ہے۔رعنائیِ خیال و خط کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ نمائش 3 ستمبر تک جاری رہے گی، جہاں شائقینِ فن، طلبہ، اساتذہ، ماہرینِ تعلیم اور عام شہری دونوں ممتاز اداروں کے اساتذہ اور ایلومینائی کے تخلیق کردہ متنوع اور منفرد فن پاروں کا مشاہدہ کر سکیں گے۔









