انصاف کی بروقت فراہمی، ڈیجیٹل عدلیہ اور عوامی اعتماد ہماری ترجیح ہے، چیف جسٹس سپریم کورٹ

اسلام آباد۔ 13 دسمبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی نظام کی مضبوطی، انصاف تک تیز رفتار رسائی اور عوامی اعتماد کا فروغ ہماری اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی، موثر پالیسی سازی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے مقدمات کے بروقت فیصلے کو یقینی بنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ …

اسلام آباد۔ 13 دسمبر (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدالتی نظام کی مضبوطی، انصاف تک تیز رفتار رسائی اور عوامی اعتماد کا فروغ ہماری اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی، موثر پالیسی سازی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے مقدمات کے بروقت فیصلے کو یقینی بنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے 56ویں اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے کیا۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہفتہ کو منعقدہ اجلاس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس نے شرکت کی، جبکہ چیف جسٹس فیڈرل آئینی عدالتِ پاکستان جسٹس امین الدین خان نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔ چیف جسٹس پاکستان نے ان کی شرکت اور قیمتی رہنمائی پر شکریہ ادا کیا۔اجلاس میں 55ویں اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا اور عدالتی نظام کی بہتری، انصاف کی موثرفراہمی اور ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

کمیٹی نے متفقہ طور پر اہم فیصلے کیے جن میں جبری گمشدگیوں کے مقدمات پرفورم نے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اٹارنی جنرل پاکستان آئندہ اجلاس میں زیرِ حراست افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کیے جانے کی شکایات کے ازالے کے لیے جامع طریقہ کار پیش کریں گے۔تجارتی، ریونیو اور مالیاتی مقدمات میں تاخیر کے خاتمے کے لیے ذیلی کمیٹی کی سفارشات منظور کر لی گئیں۔ ان میں خصوصی بینچز کا قیام، غیر ضروری مقدمہ بازی کی روک تھام، ایف بی آر میں سکریننگ کمیٹی اور ٹریبونلز کی بہتری شامل ہے۔

سفارشات پر عملدرآمد کے لیے لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کو ایف بی آر سے رابطے کی ہدایت دی گئی۔کمیٹی نے گزشتہ سہ ماہی میں مقررہ مدت کے اندر 5 لاکھ 58 ہزار 474 مقدمات نمٹانے پر ہائی کورٹس کی کارکردگی کو سراہا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ریکارڈ 4 لاکھ 65 ہزار 455 مقدمات نمٹا کر نمایاں کارکردگی دکھائی، جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے وراثتی مقدمات اور ڈبل ڈوکٹ نظام کو بھی سراہا گیا۔ مقررہ ٹائم لائنز پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی گئی۔

ہائی کورٹس میں قائم ماڈل ٹرائل کورٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے بتایا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے دیوانی و فوجداری دونوں اقسام میں سب سے زیادہ مقدمات نمٹائے۔ضلعی عدلیہ اصلاحات سے متعلق کمیٹی کو 30 دن میں سفارشات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی گئی جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اس ضمن میں اجلاس بلانے کا کہا گیا۔ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں عوام کے لیے سہل اور موثر شکایات کے نظام کے قیام کو سراہا گیا۔صوبائی چیف جسٹس کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر قانون سازی، پالیسی اور انتظامی اقدامات پر پیش رفت کی ہدایت کی گئی، جس کا جائزہ آئندہ اجلاس میں لیا جائے گا۔

نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کی تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق مسودہ رہنما اصول ہائی کورٹس کو رائے کے لیے بھجوانے اور 30 دن میں حتمی منظوری کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔تمام ضلعی عدالتوں میں ای فائلنگ کے فوری آغاز کی منظوری دی گئی۔ سندھ ہائی کورٹ کے اقدامات کو سراہا گیا۔عدالتی کمپلیکسز میں ون ونڈو فیملی اور خواتین سہولت مراکز کے قیام کی اصولی منظوری دی گئی جسے حکومتی فنڈز سے مشروط کیا گیا۔

مختلف منصوبوں کے لیے 2 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد فنڈز کے اجرا پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور ان کے بروقت و موثر استعمال کی ہدایت دی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عدلیہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر عوام کو فوری اور معیاری انصاف فراہم کرے گی، اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

مزید خبریں