انڈونیشیا میں 44 ہزار سال قبل بنائی گئی پینٹنگ دریافت

جکارتہ۔ 12دسمبر(اے پی پی) انڈونیشیا کے جزیرہ سولاویسی میں تقریباً 44 ہزار سال قبل غار کی دیواروں پر بنائی گئی پینٹنگ دریافت کی گئی ہے جس میں انسانوں کو جانوروں کا شکار کرتے دیکھایا گیا ہے۔ یہ پینٹنگ جس کو جدید ثقافتی فن اور دنیا کے قدیم ترین فیگریٹیو آرٹ ورک کا عمدہ نمونہ قرار دیا گیا ہے 2 سال قبل دریافت کی گئی جس کی لمبائی 4.5 میٹر (13فٹ …

جکارتہ۔ 12دسمبر(اے پی پی) انڈونیشیا کے جزیرہ سولاویسی میں تقریباً 44 ہزار سال قبل غار کی دیواروں پر بنائی گئی پینٹنگ دریافت کی گئی ہے جس میں انسانوں کو جانوروں کا شکار کرتے دیکھایا گیا ہے۔ یہ پینٹنگ جس کو جدید ثقافتی فن اور دنیا کے قدیم ترین فیگریٹیو آرٹ ورک کا عمدہ نمونہ قرار دیا گیا ہے 2 سال قبل دریافت کی گئی جس کی لمبائی 4.5 میٹر (13فٹ ) ہے۔ آسٹریلیا کی گرفیتھ یونیورسٹی کی ٹیم نے کہا ہے کہ چونے کے پتھروں والے پہاڑ کی غار میں دریافت ہونے والی یہ پینٹنگ 43,900 سال قدیم ہے اگرچہ اس شکار گاہ یا پینٹنگ کی حالت اچھی نہیں ہے لیکن یہ پتھروں کے دور کے دوران گہرے سرخ رنگ سے بنائی گئی جس میں آدھے دھڑ نظر آنے والے آدمی نیزوں اور رسیوں سے پرندوں اور زمین پر رینگنے والے جانوروں کا شکار کررہے ہیں۔ تحقیق کاروں نے کہا کہ یہ تصویری کہانی دنیا کے قدیم ترین علامتی آرٹ ورک کا عمدہ نمونہ ہے۔انھوں نے بتایا کہ جزیرہ سلاویسی میں ایسی قدیم کم از کم 242 غاریں یا پناہ گاہیں دریافت کی گئیں ہیں جنہوں نے یورپی تھیوری کو چیلنج کر دیا ہے۔