انڈونیشیا کے مرکزی ہوائی اڈے پر آتش فشانی راکھ کے منتشر ہونے کے بعد پروازوں کا آپریشن بحال

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے مرکزی ہوائی اڈے سوئیکارنو-ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک کے مزید چار ہوائی اڈوں پر آتش فشاں ماؤنٹ اناک کراکاٹوا سے نکلنے والی راکھ کے منتشر ہونے کے بعد پروازوں کا آپریشن بحال کر دیا گیا ہے۔

جکارتہ ۔8ستمبر (اے پی پی):انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے مرکزی ہوائی اڈے سوئیکارنو-ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت ملک کے مزید چار ہوائی اڈوں پر آتش فشاں ماؤنٹ اناک کراکاٹوا سے نکلنے والی راکھ کے منتشر ہونے کے بعد پروازوں کا آپریشن بحال کر دیا گیا ہے۔

شنہوا کے مطابق انڈونیشیا کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ آتش فشانی راکھ کے باعث ہوائی اڈے بند کیے گئے تھے۔وزیرِ ٹرانسپورٹ ڈوڈی پُرواگندھی نے بتایا کہ ہوا کا رخ تبدیل ہونے کے باعث سوئیکارنو-ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اطراف موجود آتش فشانی راکھ منتشر ہوگئی ہے۔ ایئرپورٹ کی بندش کے دوران مجموعی طور پر 178 طیارے وہاں موجود رہے، جنہیں پرواز کے لیے موزوں ہونے کی تصدیق کے سلسلے میں معائنے سے گزرنا ہوگا، جس کے باعث بعض پروازوں کی بحالی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔انڈونیشیا کی رابطہ وزارت برائے انفراسٹرکچر و علاقائی ترقی نےجاری بیان میں کہا کہ ہوائی اڈوں کی بندش کے باعث2,961 پروازیں تاخیر کا شکار، متبادل ہوائی اڈوں کی جانب منتقل یا منسوخ ہوئیں، جس سے تقریباً 3 لاکھ 41 ہزار مسافر متاثر ہوئے۔

آتش فشاں کے پھٹنے کے باعث ایک وقت میں ملک بھر کے آٹھ ہوائی اڈے بند کر دیے گئے تھے۔انڈونیشیا کے ارضیاتی حکام کے مطابق ماؤنٹ اناک کراکاٹوا میں 4 ستمبر سے مسلسل آتش فشانی سرگرمی جاری ہے، جبکہ اتوار کو نسبتاً شدید دھماکہ ریکارڈ کیا گیا۔ منگل کو بھی آتش فشاں مزید تین مرتبہ پھٹا۔ماؤنٹ اناک کراکاٹوا جاوا اور سماٹرا کے درمیان آبنائے سونڈا میں واقع ہے اور حالیہ برسوں کے دوران متعدد مرتبہ پھٹ چکا ہے۔ 2018 میں آتش فشاں کے ایک حصے کے منہدم ہونے سے سونامی پیدا ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں 400 سےزیادہ افراد مارے گئے تھے۔