سڈنی ۔8جنوری (اے پی پی):انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز آل رائونڈر بین سٹوکس نے ایشز سیریز میں 1-4 کی شکست کے بعد اعتراف کیا ہے کہ آسٹریلیا کی شاندار کارکردگی کے ساتھ ساتھ انگلینڈ نے بھی اپنی غلطیوں سے خود کو نقصان پہنچایا۔ سڈنی ٹیسٹ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بین سٹوکس کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کئی مواقع پر مضبوط پوزیشن کے باوجود برتری کو …
انگلینڈ نے سیریز میں اپنی غلطیوں سے خود کو نقصان پہنچایا،ایشز میں 1-4کی شکست پر بین سٹوکس کا اعتراف

مزید خبریں
سڈنی ۔8جنوری (اے پی پی):انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز آل رائونڈر بین سٹوکس نے ایشز سیریز میں 1-4 کی شکست کے بعد اعتراف کیا ہے کہ آسٹریلیا کی شاندار کارکردگی کے ساتھ ساتھ انگلینڈ نے بھی اپنی غلطیوں سے خود کو نقصان پہنچایا۔ سڈنی ٹیسٹ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بین سٹوکس کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کئی مواقع پر مضبوط پوزیشن کے باوجود برتری کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔بین سٹوکس نے کہا کہ آسٹریلوی ٹیم نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں غیرمعمولی کھیل پیش کیا اور اس کامیابی کا پورا کریڈٹ سٹیو سمتھ، پیٹ کمنز اور پوری ٹیم کو جاتا ہے۔
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ انگلینڈ اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا۔انگلینڈ کے کپتان کے مطابق آخری ٹیسٹ میں بھی وہی صورتحال دہرائی گئی اور ٹیم آسٹریلیا کو پہلی اننگز میں اضافی رنز بنانے سے روک نہ سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انگلینڈ مزید 100 رنز بنا لیتا تو میچ کا نقشہ مختلف ہو سکتا تھا۔بین سٹوکس نے سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں جیکب بیتھل اور جوش ٹنگ کو مثبت پہلو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 22 سالہ جیکب بیتھل نے مشکل پچ پر دباؤ میں شاندار اننگز کھیل کر اپنے مستقبل کے امکانات روشن کر دئیے، جبکہ جوش ٹنگ ہر میچ کے ساتھ مزید بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔
انگلش کپتان نے شائقین کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ برمی آرمی کی موجودگی اور حوصلہ افزائی ٹیم کے لیے باعثِ فخر ہے، خواہ نتائج مایوس کن ہی کیوں نہ ہوں۔دوسری جانب آسٹریلیا نے اہم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے باوجود گھریلو کنڈیشنز سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ قائم مقام کپتان سٹیو سمتھ نے کہا کہ مقامی حالات کی بہتر سمجھ بوجھ نے سیریز میں اہم کردار ادا کیا۔ تجربہ کار فاسٹ بولر مچل سٹارک نے 31 وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلیا کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ایشز کے اختتام کے ساتھ انگلینڈ کو اب طویل وقفہ میسر آئے گا، جسے بین سٹوکس مستقبل کی بہتری اور غلطیوں کے تجزیے کے لیے ایک اہم موقع قرار دے رہے ہیں، تاکہ جون میں اگلی ٹیسٹ سیریز میں مضبوط واپسی کی جا سکے۔








