راولپنڈی۔28اکتوبر (اے پی پی):بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے شر پسند عناصر کی جانب سے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں جوانوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ 27 اکتوبر یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر دشمن نے ایک بار پھر اپنی سیاہ تاریخ اور مذموم عزائم کو دوبارہ پروان چڑھانے کے لئے مدرسہ کے معصوم بچوں کو خون میں نہلا …
اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفرکردار تک نہ پہنچائیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

مزید خبریں
راولپنڈی۔28اکتوبر (اے پی پی):بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے شر پسند عناصر کی جانب سے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں جوانوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ 27 اکتوبر یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر دشمن نے ایک بار پھر اپنی سیاہ تاریخ اور مذموم عزائم کو دوبارہ پروان چڑھانے کے لئے مدرسہ کے معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیا، اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفرکردار تک نہ پہنچائیں،کل بھی پور ی قوم نے دہشت گردوں کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے بے مثال یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا اور آج بھی ہم اُس جذبے کے تحت ایک ہیں ، ہمارا دکھ کل بھی مشترک تھا اورآج بھی دشمن کل بھی وہی تھا اور دشمن آج بھی وہی ہے، کل بھی قوم نے دُشمن کو مسترد کیا اور دہشت گرد نظریے کو شکست دی۔ وہ بدھ کو اپردیر مالاکنڈ کے دورہ اور مدرسہ دھماکے میں زخمی بچوں کی عیادت کے لئے ہسپتال کے دورہ کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر ) کے مطابق بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ا اَپر دیر مالاکنڈ ڈویژ ن کا دورہ کیا ۔ کور کمانڈر پشاور کور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود نے آرمی چیف کی آمد پر استقبال کیا۔ بری فوج کے سربراہ کو استحکام آپریشز اور بارڈر مینجمنٹ پر بریفنگ دی گئی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے سنگلاخ اور دشوار گزار علاقے میں بارڈر فینسنگ پر ٹروپس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت اور بارڈر مینجمنٹ سسٹم پاکستان کے امن کے عزم کی حقیقی عکاس ہیں۔آرمی چیف نے جوانوں کو علاقے میں امن کے قیام کیلئے کی گئی کوششوں پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ آرمی چیف نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں مدرسہ دھماکے میں زخمی ہونے والے بچوں اور دیگر افراد کی عیادت بھی کی اور اُن کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔ اس موقع پر بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ 16 دسمبر 2014ء کو اے پی ایس پشاور میں معصوم بچوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔27 اکتوبر یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر دشمن نے ایک بار پھر اپنی سیاہ تاریخ اور مذموم عزائم کو دوبارہ پروان چڑھانے کے لئے مدرسہ کے معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیا گیا ،ان بچوں میں افغان مہاجرین کے بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی ۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ہم متحد ہیں اور مل کر اس کا مقابلہ کریں گے، میں یکجہتی اور عزم کا اظہار کرنے کے لئے خاص طور پر مدرسے کے ان بچوں، اساتذہ اور خاندانوں کا دُکھ بانٹنے آیا ہوں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ افغانستان اور پاکستا ن دونوں نے پچھلی دو دہائیوں میں دہشت گردی کا سامنا کیا ہے، پاکستان نے مہاجرین بھائیوں کیلئے اپنے دِل اور دروازے کھول دیے، ہم ہمیشہ افغان بھائیوں کے دُکھ اور سکھ میں شریک ہیں،افغانستان اور پاکستان کا امن ایک دوسرے سے جُڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اُن کا نظریہ دہشت پھیلانا اور معاشرے میں خوف کی فضاپیدا کرنا ہے، مدرسے پر حملہ دراصل اسلام دُشمنی ہے، مدرسہ، منبر، مساجد، امام بارگاہیں، گرجا، مندر، تعلیمی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ معصوم شہری ان کا نشانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور اس کیلئے بھرپور تعاون کرتا رہے گا ، پاکستان میں موجود افغان مہاجرین بھائیوں کو بھی اس سلسلے میں ایسی دُشمن قوتوں سے چوکنا اور دور رہنا ہو گا تاکہ وہ دانستگی اور نادانستگی میں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال نہ ہو سکیں۔ بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ پاک-افغان بارڈر فینس امن کی باڑ ہے، یہ صرف دہشت گردوں کی بارڈر کے دونوں اطراف غیر قانونی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے بنائی گئی ہے، پاکستان اور افغانستان دونوں موجودہ حالات میں کسی بد امنی اور انتشار کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ اس کے نتائج خطرناک ہوں گے، ہمارے دل پہلے بھی ساتھ دھڑکتے تھے اور اب بھی ہم آپس میں جُڑ ے ہوئے ہیں،ہمہ جہتی اور اتحاد ہی وقت کی ضرورت ہے، ہم آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال پاکستان دینے کیلئے کوشاں ہیں۔








