وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، ملک کو سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر، مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی
موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے بڑا چیلنج، مؤثر اور طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی، مصدق ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔29اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، ملک کو سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر، مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ہفتہ کو یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے شدید متاثر ہو رہا ہے اور ان اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک میں نمایاں ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون سے کام کرنا ہوگا جبکہ عالمی تعاون اور وسائل کی بھی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور ان میں کمی لانے کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی صلاحیت اور وسائل رکھنے والے ممالک کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی انصاف کے حصول کے لیے عالمی سطح پر اپنا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کر رہا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کو عالمی برادری کی بھرپور معاونت درکار ہے تاکہ وہ موسمیاتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹ سکیں۔ڈاکٹر مصدق ملک نے ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی موافقت کے لیے مربوط پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات کے نقصانات کم کرنے کے لیے مقامی آبادیوں کی استعداد کار بڑھانا ہوگی، جبکہ آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری اور مؤثر منصوبہ بندی کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک مشترکہ عالمی چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مربوط اقدامات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعاون، وسائل اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہوگا۔







