روم ۔13دسمبر (اے پی پی):اطالوی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے 34 "مقبروں کے چوروں" کو گرفتار کرلیا ہے جن پر سسلی اور پڑوسی علاقے کلابریا میں آثار قدیمہ کے مقامات سے خزانے لوٹنے میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔العربیہ کے مطابق اٹلی میں فنی اور آثار قدیمہ کے ورثے کی لوٹ مار ایک صدیوں پرانا مسئلہ ہے لیکن قومی جینڈرمیری کی آرٹ کرائمز فورس نے پچھلے چند سالوں …
اٹلی میں آثار قدیمہ پر مشتمل مقبروں میں لوٹ مار کرنیوالے 34 چور گرفتار

مزید خبریں
روم ۔13دسمبر (اے پی پی):اطالوی حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے 34 "مقبروں کے چوروں” کو گرفتار کرلیا ہے جن پر سسلی اور پڑوسی علاقے کلابریا میں آثار قدیمہ کے مقامات سے خزانے لوٹنے میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔العربیہ کے مطابق اٹلی میں فنی اور آثار قدیمہ کے ورثے کی لوٹ مار ایک صدیوں پرانا مسئلہ ہے لیکن قومی جینڈرمیری کی
آرٹ کرائمز فورس نے پچھلے چند سالوں میں چوری شدہ نوادرات کی بازیابی میں کچھ کامیابی حاصل کی ہے۔العربیہ کے مطابق پولیس اور پبلک پراسکیوٹر کے دفتر کے مطابق سسلی میں نو افراد کو مجرمانہ سازش، ثقافتی املاک کی چوری، چوری شدہ سامان کی سمگلنگ اور جعل سازی کے الزامات میں احتیاطی حراست میں رکھا گیا ہے اور 14 افراد کو گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے۔
کیٹینیا میں پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ افسران نے تقریباً 10 ہزار نوادرات ضبط کیے جن میں 7,000 سکے شامل ہیں جو قدیم زمانے میں سسلی میں موجود یونانی شہری حکومتوں کے تھے۔پولیس نے مٹی کے برتنوں، کانسی کی انگوٹھیوں، پنوں اور تیر کے سروں کے سینکڑوں گلدان بھی ضبط کیے ہیں۔ پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ بازیاب ہونے والے نوادرات کی مجموعی تخمینی مالیت 17 ملین یورو (20 ملین ڈالر) ہے۔
حکام نے مشرقی سسلی کے کیٹینیا کے علاقے میں ایک خفیہ لیبارٹری بھی دریافت کی جو سکوں اور مٹی کے برتنوں اور تانبے کے نوادرات کو جعلی بناتی تھی۔ حکام نے جرمنی سے کچھ چوری شدہ سکے بھی ضبط کیے جہاں انہیں دوبارہ فروخت کے لیے سمگل کیا گیا تھا۔کلابریا میں بھی اسی طرح کے الزامات پر دو افراد کو احتیاطی حراست میں لیا گیا اور نو افراد کو گھر میں نظر بند کیا گیا ہے۔
کیٹانزارو کے قصبے میں پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ مشتبہ افراد نے مقامی مافیا ’’ندرانگیتا ‘‘ کی خاموش رضامندی سے کام کیا۔ پراسیکیوٹر کے دفتر نے مزید کہا کہ مشتبہ افراد نے ٹیلی فون پر رابطوں کو کم سے کم رکھا تاکہ نگرانی سے بچا جا سکے اور اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے اپنی گفتگو میں زرعی سرگرمیوں کے الفاظ کو کوڈ ورڈ کے طور پر استعمال کیا۔








