اپوزیشن نے ہمیشہ اقتدار برائے کاروبار کیا ہے، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ انتخابی، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بات ہو سکتی ہے،احتساب پر سمجھوتہ نہیں ہو گا،وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے قائدین بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں اور منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں، اپوزیشن نے ہمیشہ اقتدار برائے کاروبار کیا ہے عوام کی خدمت نہیں کی، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت ملک سے مافیا اور بدعنوانی کی لعنت کے خاتمے کیلئے اقتدار میں آئی ہے، اگر ملک …

اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے قائدین بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں اور منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں، اپوزیشن نے ہمیشہ اقتدار برائے کاروبار کیا ہے عوام کی خدمت نہیں کی، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت ملک سے مافیا اور بدعنوانی کی لعنت کے خاتمے کیلئے اقتدار میں آئی ہے، اگر ملک کو برباد کرنے والوں سے ہاتھ ملا لیں تو یہ پی ٹی آئی کی سیاسی موت ہو گی، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ انتخابی، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات سمیت عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے بات ہو سکتی ہے لیکن حکومت بدعنوان عناصر کے ساتھ احتساب کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، وزیراعظم عمران خان نے انتخابات کو صاف و شفاف بنانے کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ اور شو آف ہینڈ کی بات کی ہے، اپوزیشن جماعتیں اگر چاہتی ہیں کہ انتخابات غیرمتنازعہ ہوں تو انہیں حکومت کا ساتھ دینا ہو گا، حکومت کو اپوزیشن کے جلسوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا البتہ جلسوں سے کورونا وبا بڑھنے اور ملکی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، مولانا فضل الرحمان کا سیاسی مفاد کیلئے شبرزیدی کے بیان کو غلط رنگ دینا افسوسناک ہے، انہیں معذرت کرنی چاہیے، عوام سے اپیل ہے کہ وہ کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کر کے ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت دیں۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کورونا کی دوسری لہر زیادہ زور کے ساتھ اٹھی ہے اور کئی ممالک نے دوبارہ کرفیو لگا دیا ہے، این سی او سی کے اعدادوشمار کے بعد حکومت نے اپنے جلسے منسوخ کئے تاکہ عوام کی صحت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، حکومت نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ فیصل آباد کے دوران اس کا عملی مظاہرہ بھی کر کے دکھایا ہے، عوام سے اپیل ہے کہ وہ ایس او پیز پر عمل درآمد کریں۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں غیرذمہ داری کا ثبوت دے رہی ہیں، اپوزیشن جماعتیں اس بات پر تلی ہوئی ہیں کہ جو مرضی ہو انہوں نے جلسے کرنے ہیں، اپوزیشن میں لیڈر نہیں، یہ مفاد پرست ٹولہ ہے جس کو عوام کی نہیں صرف اپنے مفاد کی غرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بڑی مشکل سے معیشت کو دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا کیا ہے، اپوزیشن کا اس طرح کا غیرذمہ دارانہ رویہ نہ صرف معاشی سرگرمیوں بلکہ لوگوں کی جانوں کیلئے خطرے کا باعث ہے، مریم نواز کے مانسہرہ جلسے کے دوران ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ گلگت بلتستان انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کو اپنی مرضی کے نتائج نہیں ملے اسلئے وہ انتخابات کو متنازعہ بنانے کیلئے دھاندلی کا نعرہ لگا رہی ہیں، انتخابات سے پہلے ہی ان کے بیانات سے لگتا تھا کہ ہارنے کے بعد دھاندلی کا ناٹک رچائیں گے، اگر جیت جاتے تو کہتے کہ نواز شریف کے بیانیے کی فتح ہوئی ہے تاہم گلگت بلتستان کے عوام نے اپوزیشن کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے، دھاندلی ہوتی تو پی ٹی آئی کو14 سے 15 سیٹیں ملتیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کا کام حکومت کے غلط اقدامات کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہماری اپوزیشن پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دے رہی، اپوزیشن جماعتیں جب اپنے بدعنوان قائدین کو قانون کی گرفت سے بچانے کیلئے پارلیمنٹ کو استعمال کریں گی تو پھر پارلیمنٹ کس طرح عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے قائدین بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں اور منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں، اپوزیشن نے ہمیشہ اقتدار برائے کاروبار کیا ہے عوام کی خدمت نہیں کی، انہوں نے ہمیشہ ایسے منصوبے لگائے جن کے ذریعے کمیشن کمایا، اگر انہیں عوام کی فکر ہوتی تو یہ ہیومن ڈویلپمنٹس، زراعت اور صنعتوں کو فروغ دیتے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت کا منشور اپوزیشن جماعتوں کے مفادات سے بالکل برعکس ہے، وزیراعظم عمران خان دیانت دار لیڈر ہیں، ان کا کوئی کاروبار نہیں، وہ خود کرپشن کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو کرپشن کرنے کی اجازت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے مولانا فضل الرحمان کے بیان کو مسترد کیا، انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں واحد لیڈر وزیراعظم عمران خان ہیں جو ملک کو بحرانوں اور چیلنجز سے نکال سکتے ہیں، مولانا فضل الرحمان کا سیاسی فوائد کیلئے ان کے بیان کو غلط رنگ دینا افسوسناک ہے، انہیں معذرت کرنی چاہیے۔

مزید خبریں