اسلام آباد ۔ 11 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ اپوزیشن کورونا وائرس کے معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہے، ایک طرف کہتی ہے کہ ہم حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں اور دوسری جانب حکومت پر تنقید کرتی ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا اچھی بات ہے ،اجلاس میں اپوزیشن نے صرف الزام تراشیاں …
اپوزیشن کورونا وائرس کے معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہے، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ اپوزیشن کورونا وائرس کے معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہی ہے، ایک طرف کہتی ہے کہ ہم حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں اور دوسری جانب حکومت پر تنقید کرتی ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا اچھی بات ہے ،اجلاس میں اپوزیشن نے صرف الزام تراشیاں کی ہیں، کورونا پر قابو پانے اور معیشت کی بحالی کیلئے کوئی تجاویز نہیں دیں، 18ویں ترمیم کے تحت سندھ حکومت اپنی ذمہ داریاں قبول کرے، صوبوں کو وفاق سے متعلق معاملات میں ریلیف دینے کا اختیار نہیں ہے، شہباز شریف نیب میں پیش ہو گئے لیکن ایوان میں نہیں آئے، کیا نیب کا آفس جراثیم سے پاک ہے۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے کورونا کی صورتحال کے دوران ملک کے پسے ہوئے طبقے کے لوگوں کو سہولیات دینے کیلئے 1200 ارب روپے کا تاریخی پیکیج کا اعلان کیا اور احساس کیش ایمرجنسی پروگرام کے تحت فی خاندان 12 ہزار روپے دیئے جا رہے ہیں، اس کے علاوہ حکومت 35 لاکھ چھوٹے کاروبار کے بجلی کے 3 ماہ کے بجلی کے بل ادا کرے گی، چھوٹی صنعتوں کیلئے 30 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ شفقت محمود نے کہا کہ کاروباری برادری بھی وزیر اعظم عمران خان کے اقدامات کو سراہا رہی ہے کہ حکومت وباءسے نمٹنے کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کیلئے بہترین اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کورونا سے نمٹنے اور معیشت کی بحالی کا چیلنج درپیش ہے، اپوزیشن جماعتیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر حکومت کا ساتھ دیں۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ صوبوں کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کا اختیار حاصل نہیں ہے، 18ویں ترمیم کے تحت جسطرح وفاق صوبوں کے کاموں میں مداخلت نہیں کرتا اسی طرح سندھ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ وفاق کے معاملات پر دخل اندازی نہ کرے۔ انہوں نے کہا کورونا کے معاملے پر اپوزیشن سیاسی حربے استعمال کر رہی ہے، ایک طرف لاک ڈاﺅن کرنے اور دوسری جانب اجلاس بلانے کا کہتی ہے، اجلاس میں کوئی ایس اوپیز نہیں تھے، اپوزیشن اس حساس معاملے پر سیاست کرنے سے باز رہے۔ شفقت محمود نے کہا کہ آٹے اور چینی بحران کی فرانزک آڈٹ رپورٹ آنے کے بعد ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے طلبہ کی صحت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے 15 جولائی تک سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، طلبہ کو اگلی کلاسز میں پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن جن طلبہ نے نویں یا گیارہویں جماعت کے امتحانات نہیں دیئے تھے ان کے حوالے سے ملک بھر کے 29 بورڈز کی مشترکہ کونسل (انٹربورڈ کمیٹی آف چیئرمین) بحث کر رہی ہے، امید ہے کہ معاملہ حل ہو جائے گا۔








