اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان شروع سے کہہ رہے ہیں کہ احتساب اور این آر او کے علاوہ ہر چیز پر اپوزیشن کے ساتھ بات ہو سکتی ہے، بدقسمتی سے اپوزیشن جماعتوں کا بنیادی مسئلہ ہی اپنے بدعنوان قائدین کو احتساب سے بچانا اور ان کی لوٹی ہوئی غیرقانونی دولت کا تحفظ کرنا ہے اور …
اپوزیشن کے این آر او لینے کے تمام حربے ناکام،یہ لوگ حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے استعفوں کو آخری کارڈ کے طور پر کھیل رہے ہیں،وزیراعظم عمران خان کسی صورت میں این آر او نہیں دیں گے،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز

مزید خبریں
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان شروع سے کہہ رہے ہیں کہ احتساب اور این آر او کے علاوہ ہر چیز پر اپوزیشن کے ساتھ بات ہو سکتی ہے، بدقسمتی سے اپوزیشن جماعتوں کا بنیادی مسئلہ ہی اپنے بدعنوان قائدین کو احتساب سے بچانا اور ان کی لوٹی ہوئی غیرقانونی دولت کا تحفظ کرنا ہے اور اسی لئے جلسوں کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور حکومت پر دبائو ڈالنے کیلئے استعفوں کو آخری کارڈ کے طور پر کھیل رہی ہے لیکن وزیراعظم عمران خان کسی صورت میں این آر او نہیں دیں گے۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی مفاد میں اپوزیشن کے ساتھ پہلے بھی بات چیت کیلئے تیار تھی اور اب بھی ہے لیکن کرپشن کے معاملے پر بات نہیں ہو سکتی، حکومت نے 2018ءانتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے پارلیمنٹری کمیٹی قائم کی تھی لیکن اپوزیشن نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں دو سال تک پارلیمنٹ میں آتی رہی ہیں، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسی اسمبلی میں صدارت کیلئے انتخابات میں بھی حصہ لیا اور اب وہ پی ڈی ایم کے سربراہ بن گئے ہیں، مولانا فضل الرحمان ہر دور میں اقتدار کے مزے لیتے رہے، پہلی مرتبہ اسمبلی سے باہر ہوئے ہیں اسلئے وہ زیادہ تگ و دو کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے این آر او لینے کیلئے ہر سطح پر کوشش کی لیکن ان کے سارے حربے ناکام ہو گئے، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) قانون سازی کے دوران بھی انہوں نے بلیک میلنگ کی اور نیب قانون میں ترامیم کا بل لیکر آئے، ہم نے کہا کہ پہلے ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی کرتے ہیں، نیب قانون پر بعد میں بات کرتے ہیں تو یہ لوگ اجلاس سے واک آئوٹ کر گئے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میں پیپلزپارٹی کی پالیسیوں پر اتفاق نہیں کرتا لیکن اس کا ماضی شاندار رہا ہے اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ایک بہادر خاتون تھیں، ن لیگ کا ماضی اس کے برعکس ہے، جب بھی مشکل وقت آیا ن لیگ کے قائدین معاہدے کر کے بیرون ممالک بھاگ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ موقعہ پرست جماعت ہے، ماضی میں بھی ن لیگ نے سب سے بائیکاٹ کر کے خود انتخاب لڑا تھا اور اب بھی یہ ذاتی مفادات اور مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے دوسری جماعتوں کو استعمال کر رہی ہے، پیپلزپارٹی سندھ حکومت سے لطف اندوز ہو رہی ہے وہ ان کیلئے کیوں استعفے دے گی، بلاول بھٹو نے بھی پریس کانفرنس میں اگر، مگر اور چنانچہ کی باتیں کیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بدتہذیبی کے کلچر کی مذمت کرتے ہیں، ن لیگ ہمیشہ اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتیں کرتی آئی ہے اور مختلف اوقات میں اسطرح کی مہم چلاتی رہی ہے، انہوں نے ماضی میں بے نظیر بھٹو شہید کی تضحیک کی تھی اور اب بھی یہ لوگ خاتون اول کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا کیسز اور اموات کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، بدقسمتی سے ہمیں ایسے سیاسی مخالف سے واسطہ پڑا ہے جو ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کیلئے لوگوں کو اجتماعی خودکشی پر مجبور کر رہا ہے، موجودہ صورتحال میں جلسے کرنا غیرقانونی ہے، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔








