اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):مسابقتی اپیلٹ ٹربیونل اسلام آباد نے الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ پر گمراہ کن مارکیٹنگ پر چالیس ملین روپے جرمانے کا کیس از سر نو کارروائی اور جائزہ کے لیے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کو واپس بھیج دیا ہے۔ اپیلٹ ٹربیونل کے فیصلہ میں ہدایت کی گئی ہے کہ کمیشن شو کاز نوٹس کے مرحلے سے کارروائی دوبارہ شروع کرے اور نوے دن کے اندر فیصلہ جاری کرے۔ …
اپیلٹ ٹربیونل نے الغازی ٹریکٹر کیس از سر نو کارروائی کیلئے مسابقتی کمیشن کو بھجوا دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):مسابقتی اپیلٹ ٹربیونل اسلام آباد نے الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ پر گمراہ کن مارکیٹنگ پر چالیس ملین روپے جرمانے کا کیس از سر نو کارروائی اور جائزہ کے لیے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کو واپس بھیج دیا ہے۔ اپیلٹ ٹربیونل کے فیصلہ میں ہدایت کی گئی ہے کہ کمیشن شو کاز نوٹس کے مرحلے سے کارروائی دوبارہ شروع کرے اور نوے دن کے اندر فیصلہ جاری کرے۔
منگل کے روز مسابقتی کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اپیلٹ ٹربیونل میں سماعت کے دوران اپیل کنندہ (الغازی ٹریکٹرز) نے اپنے دفاع میں پنجاب ایگریکلچرل مکینائزیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا ۔ ٹربیونل نے کمیشن کو تجویز کیا کہ آئندہ کارروائی میں پنجاب ایگریکلچرل مکینائزیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کو بھی نوٹس جاری کرے اور سماعت میں شامل کیا جائے۔ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مندرجات و نتائج جن کو الغازی ٹریکٹرز نے اپنی مارکیٹنگ کے لئے استعمال کیا، ہر ادارے سے ماہرانہ رائے حاصل کی جائے۔
ٹربیونل نے مزید تجویز کیا کہ کمیشن اگر مناسب سمجھے تو وہ ٹریکٹر بنانے والی دیگر کمپنیوں سے بھی رائے طلب کر سکتا ہے جن کی مصنوعات کا موازنہ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ مسابقتی کمیشن کی جانب سے کمپنی پر گمراہ کن مارکیٹنگ کرنے پر 4 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ الغازی ٹریکٹرز نے اپنے اشتہارات میں کلیم کیا تھا کہ ان کا ٹریکٹر دیگر ٹریکٹرز کے مقابلے میں ایندھن کی تیس فیصد تک بچت دیتا ہے۔
اپنے اس دعوے کو سپورٹ کے لئے الغازی ٹریکٹرز نے پنجاب ایگریکلچرل مکینائزیشن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ سے منسوب کیا تھا۔ مسابقتی کمیشن کی تحقیقات میں سامنے آیا تھا کہ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں الغازی ٹریکٹر کا موازنہ سرٹیفائی یا اینڈورس نہیں کیا گیا تھا بلکہ ٹریکٹرز کے محدود ماڈلز کے ساتھ کیا گیا تھا ۔ انسٹی ٹیوٹ نے کمپنی کو اپنے نام کے غلط استعمال سے باز رہنے کی ہدایت بھی کی تھی۔مسابقتی کمیشن اب ٹربیونل کی ہدایات کے مطابق دوبارہ کارروائی شروع کرے گا ۔








