برسلز۔31جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام، ڈبلیو ایف پی نے کہا ہے کہ ایتھوپیا میں حکومتی فورسز اور نسلی اقلیتی فورسز کے درمیان جاری لڑائی کے دوران شمالی ایتھوپیا میں 20 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔ غذائی قلت کے ذیلی ادارے ڈبلیو ایف پی کیا جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ تِگرے خطے میں تقریباً 40 فیصد آبادی، غذا کے …
ایتھوپیا میں 20 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے،اقوام متحدہ

مزید خبریں
برسلز۔31جنوری (اے پی پی):اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام، ڈبلیو ایف پی نے کہا ہے کہ ایتھوپیا میں حکومتی فورسز اور نسلی اقلیتی فورسز کے درمیان جاری لڑائی کے دوران شمالی ایتھوپیا میں 20 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔
غذائی قلت کے ذیلی ادارے ڈبلیو ایف پی کیا جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ تِگرے خطے میں تقریباً 40 فیصد آبادی، غذا کے سنگین سطح کے عدم تحفظ سے متاثر ہو رہی ہے۔ اس نے نشاندہی کی ہے کہ لڑائی کے باعث تِگرے کے بہت سے باشندے اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ خطے میں کئی لوگ اپنی یومیہ خوراک کی مقدار اور تعداد کو کم کر رہے ہیں۔
اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حاملہ خواتین اور بچوں کو اپنا دودھ پلانے والی خواتین غذائیت کی قلت کے باعث کمزور ہیں جس کے نتیجے میں پیدا ئش کے وقت بچوں کا وزن کم ہوتا ہے اور ان کی نشوونما رک جاتی ہے۔رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تگرے اور تنازعات کے شکار دیگر دو علاقوں میں 90 لاکھ سے زائد افراد کو خوراک کی مدد درکار ہے۔ڈبلیو ایف پی نے نشاندہی کی ہے کہ وہ سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے دسمبر کے وسط سے ان خطوں میں غذائی سامان پہنچانے سے قاصر رہی ہے۔
لڑائی 2020ء سے جاری ہے جبکہ تنازعے کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔








