ایران کا اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل ، سلامتی کونسل کے صدر کو خط ، اپنے خلاف امریکی جارحیت کی مذمت

ایران نے امریکا کی جانب سے ایک بار پھر جارحانہ کارروائیوں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ۔9جولائی (اے پی پی):ایران نے امریکا کی جانب سے ایک بار پھر جارحانہ کارروائیوں اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ شنہوا کے مطابق اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندہ امیر سعید ایروانی نے گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش اور جولائی کے لیے سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے خط میں دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایک بار پھر جنوبی ایران میں تنصیبات پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کیے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے نئی جارحانہ کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی کھلی خلاف ورزی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 1 کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اور ایران کے خلاف طاقت کا مسلسل غیرقانونی استعمال بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور یہ امریکا کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے مکمل توہین کو ظاہر کرتا ہے۔ ایرانی مندوب نے کہا کہ ایران اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ امریکا کی طرف سے طاقت کے غیرقانونی استعمال اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام نتائج اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہو تی ہے ۔

مزید خبریں