حالیہ علاقائی اور عالمی حالات کے دوران پاکستان نے ثابت قدمی، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا، گورنرفیصل کریم کنڈی

حالیہ علاقائی اور عالمی حالات کے دوران پاکستان نے ثابت قدمی، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا، گورنرفیصل کریم کنڈی

پشاور۔ 21 جولائی (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے اور دنیا اب پاکستان کو ایک نئے، متوازن اور مثبت زاویے سے دیکھ رہی ہے،حالیہ علاقائی اور عالمی حالات کے دوران پاکستان نے ثابت قدمی، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا، جبکہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے عالمی سفارت کاری کے میدان میں مؤثر کردار ادا کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور اور پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ ( پی پی اے ایف) کے اشتراک سے گورنر ہاؤس پشاور میں منعقدہ کانفرنس بعنوان "معرکۂ حق سے عالمی ثالثی، سفارت کاری اور معاشی مواقع تک” سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ک

انفرنس میں صدر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد لیفٹیننٹ جنرل (ر) ماجد احسان، سابق وفاقی وزیر قانون اور رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن) بیرسٹر ظفراللہ خان، سابق مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف، سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل پارلیمنٹری کانگریس و سابق سینیٹر ستارہ ایاز، پروگرام ایکسپرٹ پی پی اے ایف خرم شہزاد، سربراہ انٹرنیشنل ریسرچ کونسل ڈاکٹر محمد اسرار مدنی، چرچ آف پاکستان کے بشپ سرفراز ہمفری، بشریٰ علی، بیرسٹر ارشد عبداللہ، سفارت کاروں، پارلیمنٹیرینز، ماہرینِ تعلیم، کاروباری شخصیات، اوورسیز پاکستانیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو ملانے والا ایک تاریخی دروازہ ہے اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے اسے سرمایہ کاری، تجارت اور علاقائی روابط کا اہم مرکز بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ معدنی وسائل، پن بجلی، تیل، گیس، قیمتی پتھروں، جیمز اینڈ جیولری اور سیاحت کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا ملک میں تیل پیدا کرنے والے نمایاں صوبوں میں شامل ہے۔ صوبے میں آئل ریفائنریاں قائم کرنے سے صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، نئی صنعتیں اور فیکٹریاں قائم ہوں گی، نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور بے روزگاری میں کمی آئے گی۔گورنر نے کہا کہ اقتصادی سفارت کاری پاکستان کی ترقی کا اہم ستون بن چکی ہے۔ سیاحت، تعلیم، ٹیکنالوجی، ثقافتی تبادلوں اور تجارتی روابط کے فروغ کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مثبت عالمی تشخص اجاگر کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ اوورسیز پاکستانی ملک کے بہترین سفیر ہیں اور ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

گورنر نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں، صنعتکاروں، کاروباری طبقے اور کسانوں کو ضروری سہولیات اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو ملکی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہےجبکہ مؤثر معاشی اصلاحات کے ذریعے عالمی مالیاتی اداروں پر انحصار بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، اس لیے انہیں معیاری تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، فنی مہارتوں اور کاروباری مواقع کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان بامقصد شراکت داری اور مشترکہ ترقی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور سفارت کاری کی اصل کامیابی عوام کے لیے معاشی اور ترقیاتی مواقع پیدا کرنے میں ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ایسے علمی اور سفارتی فورمز صرف پاکستان تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ واشنگٹن، بیجنگ، برسلز، جنیوا، ویانا، ماسکو اور لندن جیسے عالمی مراکز میں بھی منعقد ہونے چاہییں تاکہ پاکستان کا مؤقف اور مثبت بیانیہ دنیا کے ہر اہم فورم تک پہنچایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول اور ون ونڈو سہولیات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان، درابن اکنامک زون میں امن و امان کی موجودہ صورتحال سرمایہ کاری کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے اور پائیدار امن کے بغیر کوئی سرمایہ کار وہاں سرمایہ کاری پر آمادہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ اکنامک زونز سے متعلق مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن ہی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔ امن کے بغیر معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس پاکستان کے عالمی کردار کو مزید مؤثر بنانے، اقتصادی سفارت کاری کو فروغ دینے اور قومی ترقی کے لیے نئی راہیں متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔کانفرنس سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ پاکستان نے دنیا کو امن کا پیغام دے کر عالمی سطح پر بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کے داخلی اور مقامی بیانیے کو بھی مثبت انداز میں اجاگر کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ معرکۂ حق میں کامیابی اور ایران، امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے بعد پاکستان کو دستیاب معاشی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور نئی اقتصادی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ شرکاء نے کہا کہ اس نوعیت کی کانفرنسیں ملک کے دیگر صوبوں میں بھی منعقد کی جائیں گی۔اس موقع پر ایک قرارداد بھی پیش کی گئی، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان کی اپیل کی حمایت کا اظہار کیا گیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عمل درآمد پر زور دیا گیا۔

قرارداد میں وزیراعظم محمدشہبازشریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور مذاکراتی ٹیم، بالخصوص نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے سلسلے میں ان کی کاوشوں پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ قرارداد میں معرکۂ حق کے دوران پاکستانی عوام، سیاسی و مذہبی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور میڈیا کے مثبت اور مؤثر کردار کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ آخر میں گورنر نے شرکاء کو شیلڈز بھی دیں۔

 

مزید خبریں