ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سمیت کچھ بہت مضبوط آپشنز پر غور کر ر ہے ہیں، امریکی صدر

واشنگٹن۔12جنوری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سمیت کچھ بہت مضبوط آپشنز پر غور کر رہی ہے۔جب ائیر فورس ون میں سوار نامہ نگاروں نے ان سے پوچھا کیا ایران نے جوابی کارروائی کے لیے ریڈ لائن عبور کر لی ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ ریڈ لائن عبور کرنا شروع …

واشنگٹن۔12جنوری (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سمیت کچھ بہت مضبوط آپشنز پر غور کر رہی ہے۔جب ائیر فورس ون میں سوار نامہ نگاروں نے ان سے پوچھا کیا ایران نے جوابی کارروائی کے لیے ریڈ لائن عبور کر لی ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ ریڈ لائن عبور کرنا شروع کر رہے ہیں ۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہم اسے بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ فوج اسے دیکھ رہی ہے، اور ہم کچھ بہت مضبوط آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ایران کی صورتحال کے بارے میں ہر گھنٹے رپورٹ مل رہی ہے۔امریکی صدر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ایرانی رہنماؤں نےان کو فون کر کے ان سے بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کو ایران میں بدامنی کے جواب کے لیے آپشنز کے بارے میں منگل کو بریفنگ دی جائے گی۔اس اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین کی شرکت متوقع ہے، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے میٹنگ میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے کی توقع نہیں ہے کیونکہ غور و خوض ابتدائی مرحلے میں ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے اختیارات میں ایرانی حکومت کے خلاف آن لائن ذرائع کو بڑھانا، ایرانی ملٹری اور سویلین سائٹس کے خلاف خفیہ سائبر ہتھیاروں کی تعیناتی، ملک پر مزید پابندیاں لگانا اور فوجی حملے شامل ہیں، نیز ایلون مسک کی ملکیت والی سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک کے ٹرمینلز کو ایران میں بھیجنے کا امکان شامل ہے۔

پینٹاگون نے ممکنہ فوجی حملوں کی تیاری کے لیے کسی بھی فوج کو منتقل نہیں کیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کو نہ صرف حملے کرنے بلکہ خطے میں امریکی افواج کی حفاظت کے لیے اثاثے رکھنے کی ضرورت ہوگی۔امریکا نے حال ہی میں طیارہ بردار بحری جہازیو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور اس کے اسٹرائیک گروپ کو بحیرہ روم سے لاطینی امریکا منتقل کیا، جس سے امریکا کے پاس مشرق وسطیٰ یا یورپ میں کوئی بحری جہاز نہیں بچا۔ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکا نے پہلے قدم اٹھایا تو وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کر دیں گے۔امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ایران، شام اور مشرق وسطیٰ کے دیگر معاملات پر فون پر بات کی۔

 

مزید خبریں