ایس ایم ایز کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور تسلیم شدہ لیبارٹریوں تک رسائی کے ذریعے بااختیار بنایا جائے گا، پاکستان سفارتکاری اور صنعتی عملدرآمد کو ہم آہنگ کر رہا ہے، معاون خصوصی ہارون اخترخان کابین الاقوامی سمٹ سے خطاب

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت وپیداوار ہارون اختر خان نے کہاہے کہ پاکستان کی ایس ایم ایز کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور تسلیم شدہ لیبارٹریوں تک رسائی کے ذریعے بااختیار بنایا جائے گا تاکہ وہ عالمی معیار پر پورا اتر سکیں اور بین الاقوامی ویلیو چینز میں مستند سپلائرز بن سکیں، پاکستان سفارتکاری اور صنعتی عملدرآمد کو ہم آہنگ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ …

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت وپیداوار ہارون اختر خان نے کہاہے کہ پاکستان کی ایس ایم ایز کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور تسلیم شدہ لیبارٹریوں تک رسائی کے ذریعے بااختیار بنایا جائے گا تاکہ وہ عالمی معیار پر پورا اتر سکیں اور بین الاقوامی ویلیو چینز میں مستند سپلائرز بن سکیں، پاکستان سفارتکاری اور صنعتی عملدرآمد کو ہم آہنگ کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کویہاں ڈیجیٹل مینوفیکچرنگ کے موضوع پربین الاقوامی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ مینوفیکچرنگ کا مستقبل ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے ذریعے ازسرِ نو تشکیل پا رہا ہے،’’کانسپٹ سے پروڈکٹ تک‘‘ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک انقلابی ماڈل ہے جو پاکستان کو مارکیٹ تک رسائی میں تیزی، لاگت میں کمی اور برآمدات بڑھانے کے لئے عالمی سطح پر اعتبار حاصل کرنے میں مدد دے گا۔بین الاقوامی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانیہ، جاپان، تائیوان، جنوبی کوریا اور سنگاپور نے صنعت کاری کے ذریعے اپنی معیشتوں کو کامیابی سے بدل دیا، چین کی تیز رفتار ترقی، جو بیسویں صدی کے آخر میں جرأتمندانہ پالیسی اقدامات کے ذریعے ممکن ہوئی، اس بات کی ڈرامائی اور حالیہ مثال ہے کہ کس طرح صنعتکاری نے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی آج ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہمارے پاس انسانی وسائل، سٹریٹجک محلِ وقوع اور قدرتی وسائل موجود ہیں،

وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے پہلی مرتبہ ایک جامع صنعتی پالیسی متعارف کرائی ہے جس کا مقصد ایک مضبوط اور مسابقتی صنعتی ایکو سسٹم قائم کرنا ہے، یہ پالیسی اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان روایتی پیداوار سے ڈیزائن پر مبنی، مربوط اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی صنعتوں کی طرف بڑھتے ہوئے چوتھے صنعتی انقلاب میں شامل ہونے کا خواہاں ہے۔سمٹ میں جدید ٹیکنالوجیز جیسے 3D اسکیننگ، ایڈٹو مینوفیکچرنگ اور زیرو ڈیفیکٹ پروڈکشن کو اجاگر کیا گیا، جو پاکستانی صنعتکاروں کو ملی میٹر سطح کی درستگی کے ساتھ پیداوار کرنے، پروٹوٹائپنگ کے وقت کو ہفتوں سے دنوں تک کم کرنے اور بڑے پیمانے پر برآمدی تیاری کرنے میں مدد فراہم کریں گی۔انہوں نے کہاکہ آج یہاں بننے والی ہر شراکت داری اس بات کی ضمانت ہے کہ پاکستان کی صنعتیں نہ صرف آئندہ دہائی میں عالمی مقابلے میں قائم رہیں گی بلکہ قیادت بھی کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ایس ایم ایز کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور تسلیم شدہ لیبارٹریوں تک رسائی کے ذریعے بااختیار بنایا جائے گا تاکہ وہ عالمی معیار پر پورا اتر سکیں اور بین الاقوامی ویلیو چینز میں مستند سپلائرز بن سکیں۔انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سفارتکاری اور صنعتی عملدرآمد کو ہم آہنگ کر رہا ہے۔ وزیراعظم کے حالیہ دورہ چین کے بعد حکومت صنعتی ری لوکیشن، کو-ڈویلپمنٹ اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کو فعال طور پر آگے بڑھا رہی ہے، اور ایم او یوز سے جلدی نکل کر ریکارڈ وقت میں آپریشنل کلسٹرز اور پیداوار کے عملی نتائج تک پہنچ رہی ہے۔مختلف سٹیک ہولڈرز کومخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں سے اپنے پلیٹ فارمز، معیارات اور مصنوعات لائیں ورپاکستان کو دنیا کے معیار پر پورا اترنے دیں۔ انہوں نے نصاب کو صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے اور مائیکرو کریڈینشلز متعارف کرنے کی ضرورت پربھی زوردیا۔ انہوں نے کہاکہ دنیا تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اورہم پیچھے رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے یہ اب تبدیلی کا وقت ہے۔