اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن (آئی ایف سی) نے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے تعاون سے کراچی میں (ای ایس جی) پاکستان پروجیکٹ کے تحت سٹیک ہولڈرز کے ساتھ دوسرا مشاورتی اجلاس کیا۔اس اجلاس کا مقصد پاکستان کے کارپوریٹ شعبے کو مضبوط بنانا اور اسے بین الاقوامی ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) معیارات کے مطابق ہم آہنگ کرناہے تاکہ …
ایس ای سی پی اور آئی ایف سی کی سٹیک ہولڈرز سے مشاورت، سرمایہ کاری کیلئے تیار کیپٹل مارکیٹ کے فروغ پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی کارپوریشن (آئی ایف سی) نے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے تعاون سے کراچی میں (ای ایس جی) پاکستان پروجیکٹ کے تحت سٹیک ہولڈرز کے ساتھ دوسرا مشاورتی اجلاس کیا۔اس اجلاس کا مقصد پاکستان کے کارپوریٹ شعبے کو مضبوط بنانا اور اسے بین الاقوامی ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) معیارات کے مطابق ہم آہنگ کرناہے تاکہ وہ سرمایہ کاری کے لیے مزید تیار ہو سکے۔بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں کیپٹل مارکیٹ کے اداروں، کارپوریٹ شعبے اور پیشہ وراداروں کے اہم سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ایس ای سی پی کے چیئرمین عاکف سعید نے آئی ایف سی کے ساتھ ایس ای سی پی کے شراکتی عزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی پائیدار ترقی اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے آئی ایف سی کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ہماری (ای ایس جی) اصلاحات جو مرحلہ وار اور اشتراکی انداز میں نافذ کی جا رہی ہیں
بین الاقوامی سطح پر بہترین عملی نمونوں کے طور پر تسلیم کی جا رہی ہیں۔ ای ایس جی ریگولیٹری روڈ میپ، ڈسکلوزر گائیڈلائنز اور ای ایس جی سسٹین پورٹل کے ذریعے ہم کارپوریٹ تیاری کو بڑھاتے ہوئے اور آب و ہوا سے منسلک سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہوئے مارکیٹ کے طریقوں میں پائیداری اور جوابدہی کو شامل کر رہے ہیں۔ مزید برآں ہمارے حالیہ ای ایس جی سروے کا حوصلہ افزاء ردعمل ہمیں سیکٹرل چیلنجز کی نشاندہی کرنے اور پالیسیوں کو تشکیل دینے میں مزید مدد کرے گا تاکہ پاکستان کے شفاف اور پائیدار ماحولیاتی نظام کی طرف منتقلی میں مدد ملے۔پرنسپل انویسٹمنٹ آفیسر آئی ایف سی زنی محتشم نے کہا کہ ای ایس جی طریقہ کار کو اپنانا اب ان کاروباری اداروں کے لیے نہایت اہم ترجیح بن چکا ہے جو اپنی ساکھ کو مضبوط ، سرمایہ کاری کو راغب اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ای ایس جی پروجیکٹ جو ایس ای سی پی کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے اور برطانیہ کے فارن
کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) اور فیسلٹی فار انویسٹمنٹ کلائمیٹ ایڈوائزری (ایف آئی اے ایس) کی معاونت حاصل ہے، کا مقصد ای ایس جی پر مبنی ریگولیٹری فریم ورک کے نفاذ میں تیزی لانا ہے۔ایف سی ڈی او کے نمائندے نعمان روزن بام نے اس بات پر زور دیا کہ ای ایس جی سے مطابقت رکھنے والی اصلاحات کو مضبوط بنانا مارکیٹ کے اعتماد کو بحال کرنے اور پاکستان میں پائیدار نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نہایت ضروری ہے۔آئی ایف سی کے محسن علی کی زیر صدارت ایک پینل گفتگو میں ایس ای سی پی، انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹنٹس آف پاکستان(آئی سی اے پی)، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کارپوریٹ گورننس(پی آئی سی جی)، بینکاری شعبے اور پائیداری کے ماہرین کے نمائندے شامل تھے۔ایس ای سی پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مسرت جبین نے ایس ای سی پی کے ای ایس جی سفر کے اگلے مرحلے پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ اب توجہ اس کے عملی نفاذ کو مزید مضبوط کرنے اور پالیسیوں کو قابل پیمائش کارپوریٹ اقدامات میں تبدیل کرنے پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مقصد کمپنیوں کو ایسے ٹولز، ڈیٹا سسٹمز اور مراعات سے آراستہ کرنا ہے جو پائیداری کے وعدوں کو ٹھوس نتائج میں بدلنے کے لیے درکار ہیں اور آئی ایف سی جیسے شراکت داروں کے ساتھ تعاون اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے کہ پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس نہ صرف مطابقت پذیر ہوں بلکہ عالمی پائیداری کے منظر نامے میں مسابقتی اور سرمایہ کاری کے لیے تیار ہوں۔پینلسٹس نے اجتماعی طور پر پاکستان میں پائیدار مالیات کی بڑھتی ہوئی رفتار پر زور دیا اور ای ایس جی کے وعدوں کو بامعنی کارپوریٹ ایکشن اور طویل مدتی اثرات میں ترجمہ کرنے کے لیے پبلک پرائیویٹ تعاون، مارکیٹ کی ترغیبات اور صلاحیت کی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔ تین سالہ ای ایس جی پروجیکٹ کے تحت آئی ایف سی ملک بھر میں سٹیک ہولڈرز کی مصروفیت، سیکٹر کے لیے مخصوص ای ایس جی کی صلاحیت سازی کی ورکشاپس
ای ایس جی رہنمائی کے مواد کی ترقی اور ای ایس جی سسٹین پورٹل سے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے لسٹڈ کمپنیوں کے درمیان ای ایس جی طریقوں کے اثرات کے جائزے میں ایس ای سی پی کی مدد کرے گا۔ یہ منصوبہ ایس ای سی پی کی ایک ایسا ریگولیٹری ماحول بنانے کی کوششوں کوتقویت دیتا ہے جو باہمی تعاون پر مبنی، شفاف، جامع اور بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ہو۔








