ایس ای سی پی میں ریگولیٹری اصلاحات لانے ، انفورسمنٹ کو فعال اور موثر بنانے کیلئے سفارشات تیار کرنے کیلئے تشکیل کردہ کمیٹی کا اجلاس
ایس ای سی پی میں ریگولیٹری اصلاحات لانے ، انفورسمنٹ کو فعال اور موثر بنانے کیلئے سفارشات تیار کرنے کیلئے تشکیل کردہ کمیٹی کا اجلاس
اسلام آباد۔1اپریل (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں ریگولیٹری اصلاحات لانے ، کمیشن کی انفورسمنٹ کو فعال اور موثر بنانے کے لئے سفارشات تیار کرنے کے لئے وزیراعظم کی ہدایت پر تشکیل کردہ کمیٹی کا پہلا اجلاس وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ای سی پی کی انفورسمنٹ بہتر بنانے، زیر التواء مقدمات کے تیز ترین حل ، عائد کردہ جرمانوں کی ریکوری اور سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔
وزیر اعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے دیگر ارکان میں وفاقی سیکرٹری کابینہ کامران یوسف، سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال ، سیکرٹری قانون و انصاف راجہ نعیم ، چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو اور چیئرمین کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان شامل فرید احمد تارڑ شامل ہیں۔بدھ کو ایس ای سی پی سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے اجلاس کو بتایا کہ ایس ای سی پی سے متعلق دو ہزار سے زائد مقدمات عدالتوں میں زیر التواء ہیں جس کے باعث کمیشن کے احکامات پر عملدرآمد میں تاخیر اور عائد کردہ جرمانوں کی وصولی انتہائی کم ہے۔
انہوں نے ایس ای سی پی کی انفورسمنٹ رجیم اور کمیشن کو بااختیار بنانے اور عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے فوری فیصلوں کے لئے خصوصی ٹربیونلز کے قیام کی تجویز دی۔ انہوں نے بین الاقوامی طرز عمل خصوصاً برطانیہ کے ماڈل کی روشنی میں کیپٹل مارکیٹ سے متعلق خلاف ورزیوں کے لئے فوجداری کارروائی کی بجائے سول نظام اپنانے کی بھی تجویز دی۔اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کسی بھی ریگولیٹری قانون پر عملدرآمد کو بہتر بنانے کے لئے ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی توجہ دی جائے۔
وفاقی وزیر قانون نے ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو کو ایس ای سی پی کے ریگولیٹری سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کی ہدایت کی تا کہ کمپنیوں کی فائلنگ کے وقت جعلسازی و دھوکہ دہی کی روک تھام کی جا سکے۔ اس طریق سے کم بھی عدالتوں میں جانے والے مقدامات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے ایس ای سی پی نے جاری اقدامات پر بریفنگ دی جن میں سینٹرل ڈیپازٹری سسٹم کے ذریعے شیئرز کو الیکٹرانک شکل میں منتقل کرنے کا اقدام شامل ہے جس سے شفافیت میں اضافہ اور کاغذی فراڈ میں کمی آئے گی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایس ای سی پی کے نفاذی اختیارات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جس کے لئے قانون سازی اور بعض جرائم کو ڈی کریمنلائز کر کے سول جرمانوں کے ذریعے مؤثر نفاذ ممکن بنایا جائے گا۔وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ایس ای سی پی آئندہ اجلاس میں جامع اصلاحاتی منصوبہ پیش کرے جس میں ٹربیونلز کے قیام، ریکوری نظام، قانونی ترامیم اور ادارہ جاتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہوں۔









