اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایشیاءکا خطہ عالمی سیاست میں اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے، نئے علاقائی اور عالمی حالات ہماری خارجہ پالیسی کے لئے نئے چیلنجز لارہے ہیں، اس تناظر میں پاکستانی سفارتکاروں پر پاکستان کے مفادات کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیر کو وزارتِ خارجہ میں 39 …
ایشیاءکا خطہ عالمی سیاست میں اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے، نئے علاقائی اور عالمی حالات ہماری خارجہ پالیسی کے لئے نئے چیلنجز لارہے ہیں،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا 39 ویں سپیشلائزڈ ڈپلومیٹک کورس کی گریجویشن تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 20 جنوری (اے پی پی) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایشیاءکا خطہ عالمی سیاست میں اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے، نئے علاقائی اور عالمی حالات ہماری خارجہ پالیسی کے لئے نئے چیلنجز لارہے ہیں، اس تناظر میں پاکستانی سفارتکاروں پر پاکستان کے مفادات کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیر کو وزارتِ خارجہ میں 39 ویں اسپیشلائزڈ ڈپلومیٹک کورس کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سیکرٹری خارجہ، سابقہ سیکرٹریز خارجہ، 39 ویں اسپیشلائزڈ ڈپلومیٹک پروگرام کے شرکاءاور دیگر نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس گریجویشن تقریب میں شرکت کر کے انتہائی مسرت ہورہی ہے، 39 ویں ڈپلومیٹک گریجویشن کورس کے شرکاءکو کامیابی کے ساتھ کورس مکمل کرنے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ کورس کے شرکاءکو نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ لاہور، سیالکوٹ، کراچی کوئٹہ اور گوادر لے جایا گیا اور پاکستان کے اہم سیاحتی اور ثقافتی مقامات سے متعارف کروایا گیا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بزنس کمیونٹی اور مختلف اہم اداروں کے ساتھ ملاقات سے آپ کو پاکستان کے معاشی اور تجارتی مفادات کو بہتر انداز میں آگے لے جانے میں معاونت ملے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغانستان اور چین کے سفارتکاروں کے ساتھ ہونیوالی سہ فریقین تربیتی ورکشاپ سے آپ کو سفارت کاری کے اہم رموز سیکھنے کا بہترین موقع میسر آیا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں سے تبادلہ خیال بیرون ملک پاکستانی معاشی مفادات کے تحفظ میں معاون ثابت ہو گا، سفارتکاروںکو چین کا دورہ بھی کرایا ہے اور امید ہے کہ اس سے انہیں فوائد حاصل ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ انسانی زندگی میں سیکھنے اور علم حاصل کرنے کا سلسلہ کبھی نہیں رکتا۔ وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ایشیاءکا خطہ عالمی سیاست میں اہمیت اختیارکرتا جا رہا ہے، نئے علاقائی اور عالمی حالات ہماری خارجہ پالیسی کے لئے نئے چیلنجز لا رہے ہیں، چیلنجز سے نمٹنے کے لئے پاکستانی سفارتکاروں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ہیمں ہر صورت پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ آپ کو پروفیشنل ڈپلومیٹس کے ساتھ تربیتی ورکشاپ کروائی گئی تاکہ آپ عملی پہلوو¿ں کو سیکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ گریجویشن کے بعد اب عملی سفارت کاری میں قدم رکھ رہے ہیں یہ آپ کے کیریئر کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا جہاں آپ کتابی دنیا سے عملی زندگی میں داخل ہوں گے مگر آپ کو یہ بات ذہن نشین رکھنا ہے کہ آپ کو ہمیشہ سیکھتے رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تیزی سے بدلتے منظر نامے میں،ایشیاء بین الاقوامی سطح پر خصوصی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ نئے منظر نامے میں پاکستان کے لئے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک متحرک خارجہ پالیسی کو اپنا کر ہم ان مواقع سے استفادہ کر سکتے ہیں اور چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے سفارت کار اس بدلتی صورتحال میں پاکستان کو آگے لے جانے میں اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ علاقائی سطح پر بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پرامن اور متحرک اقتصادی ہمسائیگی کے اصول کو آگے لے کر چلنا ہے۔ ہمیں تجارت، توانائی اور روابط کے فروغ سے اپنی اقتصادی استعداد کو خطے میں مستحکم بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روایتی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری اور تجارت کو بڑھانے کیلئے متحرک ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاری اور بین الاقوامی امور لازم و ملزوم ہیں۔ آج کے سفارت کار کو سفارتی کاری کے علم کے ساتھ ساتھ ،علم سیاست، بین الاقوامی قوانین اور معاشی سفارت کاری کو بھی سیکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو روایتی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ، مناظرے اور سوشل میڈیا پر دسترس حاصل کرنا ہوگی تاکہ آپ ہر وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا دفاع کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہوں۔ آپ کا تجزیہ استدلالی اور آپ کی تجاویز عملی نوعیت کی ہونی چاہیں۔ مجھے اطمینان ہے کہ فارن سروس اکیڈمی بہترین تربیت فراہم کر رہی ہے۔ اسے مزید بہتر بنانے کیلئے اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ چین نے خیر سگالی کے تحت اپنی پرانی ایمبسی کو فارن سروس اکیڈمی کیلئے وقف کیا ہے جس کی تزئین وآرائش کا کام جاری ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ فارن سروس اکیڈمی اسی طرح نئے سفارتکاروں کو بہترین تربیت فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہے گی۔ آپ سب پاکستان کا مستقبل ہیں ہمیں ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ ہم سب جمہوریہ پاکستان کے نمائندے ہیں اور ہم پاکستانی عوام کو جوابدہ ہیں۔ آپ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آپ سب سے پہلے پبلک سرونٹ ہیں۔ آپ کو پاکستان اور عالمی دنیا کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہے آپ کو اس قوم کی خدمت بہتر انداز میں کرنے کا عزم کرنا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ آپ ایمانداری،جانفشانی اور لگن کے ساتھ اپنے فرائض منصبی انجام دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا خصوصی خیال رکھنا ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کا عملی سفر دلچسپ اور چیلنجز سے بھرپور ہو گا۔ میں آپ کے اس عملی سفر پر آپ کیلئے دعا گو ہوں۔








