صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی کو دھچکا ، وفاقی عدالت نے 75 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزوں پر عائد پابندی ختم کر دی

امریکی وفاقی عدالت نے حکومت کی جانب سے 75 ممالک کے شہریوں کو مستقل طور پر امریکا میں آباد ہونے کے لیے امیگریشن ویزے جاری کرنے کے عمل پر عائد پابندی ختم کر دی جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کو دھچکا لگا ہے

واشنگٹن۔23اگست (اے پی پی):امریکی وفاقی عدالت نے حکومت کی جانب سے 75 ممالک کے شہریوں کو مستقل طور پر امریکا میں آباد ہونے کے لیے امیگریشن ویزے جاری کرنے کے عمل پر عائد پابندی ختم کر دی جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کو دھچکا لگا ہے۔ اردو نیوز نے اے ایف پی کے حوالے سے بتایا کہ نیویارک کی جنوبی ضلعی وفاقی عدالت کے فیصلے میں جج جینیٹ ورگاس نے اس پالیسی کو قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسے جاری کرتے ہوئے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوزکیا۔یہ پالیسی رواں سال جنوری میں نافذ ہوئی تھی جس کے تحت افغانستان، برازیل، مصر، ایران، عراق، نائجیریا، صومالیہ، تھائی لینڈ اور یمن سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگریشن ویزوں کی درخواستوں پر کارروائی معطل کر دی گئی تھی۔اس وقت امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ زیادہ خطرے والے ممالک سے آنے والے تارکین وطن یہاں فلاحی سہولیات کا غیرقانونی استعمال نہ کریں یا حکومت پر مالی بوجھ نہ بنیں،تاہم جج ورگاس نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ قونصلر افسران کو درخواست گزار کے آبائی ملک کی بنیاد پر امیگریشن ویزا مسترد کرنے کا حکم دینا درست نہیں تھا خاص طور پر اس صورت میں جب افسران یہ طے کر چکے ہوں کہ درخواست گزار دیگر تمام شرائط پر پورا اترتا ہے، اس فیصلے کے نتیجے میں ایسے تمام ویزا انکار ختم ہو جائیں گے جو صرف مذکورہ پالیسی کی بنیاد پر کیے گئے تھے۔امریکی حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخابی مہم کے دوران امریکا میں غیرقانونی طور پر مقیم لاکھوں تارکین وطن کو ملک سے نکالنے کا وعدہ کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس میں دوبارہ واپسی کے بعد ان کی انتظامیہ نے ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے اور امریکا کی سرحدوں سے غیرقانونی آمد کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔