ایشیائی ترقیاتی بینک نے ہنگامی حالات میں فوری مالی معاونت کے لیے نئے نظام کی منظوری دےدی

اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)نے ہنگامی حالات میں فوری مالی معاونت کے لیے نئے نظام کی منظوری دےدی ۔ بینک سے جاری بیان کے مطابق ریپڈ ریسورس ری پروگرامنگ اینڈ ڈپلائمنٹ آپشن(تھری آرڈی او)کے نام سے نئے مالیاتی نظام سے ترقی پذیر ممالک کو بحران کے وقت فوری ردِعمل کےلئے سہولیات کی فراہمی کوممکن بنایاگیاہے۔ اس نظام کے تحت متعلقہ ممالک نئی مالی معاونت کی …

اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)نے ہنگامی حالات میں فوری مالی معاونت کے لیے نئے نظام کی منظوری دےدی ۔ بینک سے جاری بیان کے مطابق ریپڈ ریسورس ری پروگرامنگ اینڈ ڈپلائمنٹ آپشن(تھری آرڈی او)کے نام سے نئے مالیاتی نظام سے ترقی پذیر ممالک کو بحران کے وقت فوری ردِعمل کےلئے سہولیات کی فراہمی کوممکن بنایاگیاہے۔ اس نظام کے تحت متعلقہ ممالک نئی مالی معاونت کی منظوری کاانتظارکئے بغیر بینک کے موجودہ سرکاری منصوبوں کے فنڈز کو ازسرِ نو مختص کر کے فوری امدادی اور ابتدائی بحالی اقدامات کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ماساتو کاندا نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعہ اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ ہمارے خطے کو جغرافیائی،سیاسی اور معاشی جھٹکوں کا سامنا اچانک شدت کے ساتھ ہو سکتا ہے، بحران کے دوران معیشت اور معاشی طورپرکمزور طبقات کے تحفظ کے لیے رفتار انتہائی اہم ہوتی ہے، اور یہ نیا نظام ترقی پذیر ممالک کو یہ صلاحیت فراہم کرتا ہے کہ وہ ہفتوں یا مہینوں کے بجائے چند دنوں میں عملی اقدامات کر سکیں ۔

بیان کے مطابق تھری آرڈی اوخاص طور پر اس انتہائی حساس ابتدائی مرحلے یعنی کسی آفت یا ہنگامی صورتحال کے بعد کے پہلے چند دن کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے، یہ ایساوقت ہوتا ہے جب حکومتوں کے لیے ضروری اشیا اور خدمات کی دستیابی یقینی بنانا اور اہم سرکاری نظام کو مستحکم رکھنا ناگزیر ہوتا ہے۔ نئے نظام کے تحت وہ ترقی پذیر رکن ممالک جو پہلے سے طے شدہ شرائط پوری کرتے ہوں، اے ڈی بی سے درخواست کر سکتے ہیں کہ ان کے غیر استعمال شدہ سرکاری فنڈز کے پورٹ فولیو کا زیادہ سے زیادہ 10 فیصد یا چھوٹے جزیرہ نما ترقی پذیر ممالک کے لیے 25 فیصد تک دوبارہ مختص کر دیا جائے، یہ وسائل پہلے سے منظور شدہ ہنگامی ردِعمل منصوبے کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے جس کی منظوری پہلے ہی اے ڈی بی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز دے چکا ہوگا، چونکہ ہنگامی حالات کے لیے شرائط، قابلِ قبول اخراجات اور عملدرآمد کے طریقہ کار پہلے سے طے شدہ ہوں گے اس لیے حکومتی درخواست موصول ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر اس نظام کو فعال کیا جا سکے گا۔

بیان کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں اے ڈی بی کے رکن ممالک میں مجموعی طور پر 1227 آفات رپورٹ ہوئیں جن کے نتیجے میں 106000 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 341 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات ہوئے، ان میں سے 62 آفات میں باقاعدہ ہنگامی حالت نافذ کی گئی جن میں مجموعی اموات کا 56 فیصد اور معاشی نقصانات کا 23 فیصد شامل تھا۔ تھری آرڈی بغیر اضافی لاگت کے دستیاب آپشن ہے جسے ترقی پذیر ممالک بحران کے وقت دیگر مالیاتی سہولتوں کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔