اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کی ہدایت پر ادارے میں اندرونی احتساب کا عمل سختی سے جاری ہے جس کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف انٹرنل اکائونٹیبیلیٹی نے سال 2025ء کے دوران مجموعی طور پر 271 اہلکاروں کو سزائیں سنائی ہیں۔ بدعنوانی، نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور اختیارات سے تجاوز میں ملوث 88 افسران و اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا …
ایف آئی اے میں بڑے پیمانے پر اندرونی احتساب، 88 افسران برطرف، مجموعی طور پر 271 اہلکاروں کو سزائیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کی ہدایت پر ادارے میں اندرونی احتساب کا عمل سختی سے جاری ہے جس کے تحت ڈائریکٹوریٹ آف انٹرنل اکائونٹیبیلیٹی نے سال 2025ء کے دوران مجموعی طور پر 271 اہلکاروں کو سزائیں سنائی ہیں۔ بدعنوانی، نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور اختیارات سے تجاوز میں ملوث 88 افسران و اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جن میں 2 ڈپٹی ڈائریکٹرز، 6 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، 13 انسپکٹرز، 20 سب انسپکٹرز، 5 اے ایس آئی، 13 ہیڈ کانسٹیبل، 20 کانسٹیبل اور 9 منسٹریل سٹاف شامل ہیں۔
ترجمان ایف آئی اے کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سال 2025ء کے دوران 1 اے ایس آئی، 2 کانسٹیبل اور 2 منسٹریل سٹاف کو ملازمت سے برخاست کیا گیا۔ اسی طرح 10 اہلکاروں کو عہدے کی تنزلی کی سزائیں سنائی گئیں جن میں 1 ڈپٹی ڈائریکٹر، 2 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، 2 انسپکٹرز، 1 سب انسپکٹر، 3 ہیڈ کانسٹیبل اور 1 کانسٹیبل شامل ہیں۔ مزید برآں 168 افسران و اہلکاروں کو ترقی روکنے اور دیگر معمولی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجہ نے اس موقع پر واضح کیا کہ محکمہ جاتی احتساب کا مقصد قانونی اور پیشہ ورانہ معیارات پر سختی سے عمل کو یقینی بنانا ہے اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کرپشن، غفلت اور ناقص تفتیش میں ملوث اہلکاروں کی ایف آئی اے میں کوئی جگہ نہیں ہے اور ادارے کو کالی بھیڑوں سے پاک کرنے کے لیے سخت احتسابی عمل جاری ہے۔رفعت مختار راجہ کا مزید کہنا تھا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں کیونکہ احتسابی عمل سے ہی انسانی سمگلنگ اور کرپشن کا خاتمہ ممکن ہے جبکہ غفلت برتنے والے افسران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔








