ایف آئی اے نے اسلام آباد میں جعلی ایپوسٹل سٹیکرز ، سرکاری مہریں تیار،استعمال کرنے والے مبینہ نیٹ ورک کا سراغ لگالیا

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے آبپارہ میں ایک چھاپے کے دوران جعلی ایپوسٹل (apostille) سٹیکرز اور سرکاری مہریں تیار کرنے اور استعمال کرنے والے ایک مبینہ نیٹ ورک کا سراغ لگایا ہے ، وزارت خارجہ کے چھ اہلکاروں سمیت 22 مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اسلام آباد۔20ستمبر (اے پی پی):فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے آبپارہ میں ایک چھاپے کے دوران جعلی ایپوسٹل (apostille) سٹیکرز اور سرکاری مہریں تیار کرنے اور استعمال کرنے والے ایک مبینہ نیٹ ورک کا سراغ لگایا ہے ، وزارت خارجہ کے چھ اہلکاروں سمیت 22 مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

ایف آئی اے کے حکام نے اتوار کو اے پی پی کو بتایا کہ اینٹی کرپشن سرکل (اے سی سی) اسلام آباد نے قابلِ اعتماد ذرائع سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر آبپارہ کے ایف اینڈ ایف پلازہ کی بیسمنٹ میں قائم مختلف کنسلٹنسی اور کوریئر دفاتر پر چھاپہ مارا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468، 471 اور 109 کے تحت، انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے ساتھ ملا کر، 22 مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ نمبر 48/2026 درج کیا گیا ہے۔ایف آئی اے کے مطابق تفتیش کے دوران 16 مشتبہ افراد کی نشاندہی کی گئی جن کا تعلق ایف اینڈ ایف پلازہ میں موجود صوفی کنسلٹنٹس، ایکسیلنٹ کوریئر سروس ، لیپرڈز کوریئر سروسز، راک کنسلٹنسی، نون کنسلٹنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ، جی ایم کنسلٹنٹس اور فیئر لائن سروس سے ہے۔

مقدمہ میں وزارت خارجہ کے چھ اہلکاروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے، جن میں تصدیق اور ایپوسٹل کے کام سے وابستہ اہلکار شامل ہیں، جن پر اس نیٹ ورک میں مبینہ کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔ایف آئی اے کا الزام ہے کہ درخواست دہندگان سے ایپوسٹل اور دستاویزات کی تصدیق کی خدمات کو جلد فراہم کرنے کے وعدے پر بھاری رقوم وصول کی جاتی تھیں، جبکہ وزارت کے اہلکاروں کو مبینہ طور پر رشوت دی جاتی تھی۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ جعلی ایپوسٹل اسٹیکرز مبینہ طور پر پاکستان بھر میں مختلف مقامات پر تقسیم کیے گئے، جس سے سرکاری دستاویزات کے غلط استعمال اور قومی خزانے کو ممکنہ نقصان پہنچنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

متعلقہ عدالت نے گرفتار مشتبہ افراد کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے، جبکہ انسپکٹر ارسلان مسعود خان اس مقدمے کی تفتیش کریں گے۔یہ آپریشن ایف آئی اے اسلام آباد زون کے ڈائریکٹر کی ہدایت پر اور اے سی سی اسلام آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی نگرانی میں کیا گیا۔ اس ٹیم میں انسپکٹرز ارسلان مسعود خان اور حنا رباب ہاشمی، سب انسپکٹرز تابش جاوید، فرحین مرتضیٰ اور شہریار، اے ایس آئیز سفیر کیانی، وقاص اور سہیل طارق، اور ہیڈ کانسٹیبل محمد عزیر شامل تھے۔ایف آئی اے اسلام آباد زون نے کہا کہ عوامی اداروں میں چاہے سرکاری عہدیدار ہوں یا عام افراد، بدعنوانی اور جعل سازی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی جاری رہے گی ۔