ایف بی آر میں اصلاحات کاعمل جاری،سرکاری ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لینے کےلئے موثر نظام متعارف کرایا ، راشدمحمودلنگڑیال

ایف بی آر میں اصلاحات کاعمل جاری،سرکاری ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لینے کےلئے موثر نظام متعارف کرایا ، راشدمحمودلنگڑیال

اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):چیئر مین ایف بی آرراشدمحمودلنگڑیال نے کہاہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی قیادت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)میں گزشتہ اڑھائی برس سے بڑے پیمانے پر اصلاحات کاعمل جاری ہے ، ٹیکس انتظامیہ چلانے والے سرکاری ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لینے کےلئے جائزے کاموثر نظام متعارف کرایا گیا ہے،گزشتہ سال صرف تمباکو کے شعبے میں 40 ارب روپے سے زائد جبکہ چینی کے شعبے میں 60 ارب روپے کا خلا پر کیا گیا۔

جمعرات کویہاں ایشیائی ترقیاتی بینک کے زیراہتمام ٹیکس نظام کے ذریعے مالیاتی استحکام کے حوالے سے مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے چئیرمین ایف بی آرنے کہاکہ مالیاتی پائیداری کے دو بنیادی پہلو ہیں،ایک یہ کہ بحیثیت قوم ہم کتنا ریونیو متحرک کر سکتے ہیں اور دوسرا یہ کہ حاصل ہونے والی آمدن کس طرح خرچ کی جاتی ہے، جب یہ آمدن تعلیم، صحت اور مستقبل میں معیارِ زندگی بہتر بنانے پر خرچ ہوتی ہے تو اس کا اثر دوبارہ ریونیو متحرک کرنے کے عمل پر پڑتا ہے ،جب تک ہم جمع کیے گئے وسائل کو درست طریقے سے بہتر انسانی وسائل کی تیاری پر خرچ نہیں کریں گے یہ معاشی ترقی اور بالآخر ریونیو میں اضافے کی صورت میں دوبارہ ہمارے پاس واپس نہیں آئیں گے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم اور وزیر خزانہ کی قیادت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)اڑھائی برس سے بڑے پیمانے پر اصلاحات کے عمل سے گزر رہا ہے، ہم نے محض معمولی نوعیت کی اصلاحات نہیں کیں بلکہ ایسی بنیادی اور نظام کو تبدیل کر دینے والی اصلاحات کی ہیں جن میں انسانی وسائل اور ٹیکس آپریٹنگ ماڈل میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف انسانی وسائل کے شعبے میں ہی ہم نے نجی شعبے کی مہارت سے استفادہ کیا ، تیسرے فریق کے آڈیٹرز کو شامل کیا ، مختلف شعبوں کے ماہرین کو ساتھ ملایا لیکن سب سے بڑھ کر ایک کام ایسا ہے جو اس ملک میں پہلے کبھی نہیں کیا گیا کہ ٹیکس انتظامیہ چلانے والے سرکاری ملازمین کی کارکردگی کو کس طرح جانچا اور انہیں کس بنیاد پر انعام دیا جائے چنانچہ ہم نے پیئر ریٹنگ میکانزم یعنی 360 ڈگری جائزے کا نظام متعارف کرایا

، بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کو کم بہتر کارکردگی والوں سے الگ کیا جا رہا ہے اور اسی بنیاد پر اہم عہدوں پر لوگوں کی تعیناتی میں مدد مل رہی ہے، اس نظام نے سروس میں نئے آنے والے افسران کے لیے درست نوعیت کے کیرئر کے انتخاب کی ترغیب پیدا کی ہے اور یہ بھی انتہائی اہم ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے کہاکہ جب سرکاری ملازمین سول سروس میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں ایک طرح کا کیرئر چوائس ٹیسٹ دینا ہوتا ہے جس میں اس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ دیانت داری، پیشہ ورانہ رویے اور اہلیت کے حوالے سے ان کا طرزِ عمل کیسا ہوگا، جب آپ موجودہ افرادی قوت کی کارکردگی کو انعام دینے کا نظام متعارف کراتے ہیں تو اس کے نتیجے میں نئے آنے والوں کے کیرئر کے انتخاب بھی مختلف ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وفاقی یا صوبائی حکومت کے کسی دوسرے سول سروس کیڈر میں اس نوعیت کی اصلاح نہیں کی گئی، اس کے درمیانی اور طویل مدتی اثرات ابھی سامنے آنا باقی ہیں لیکن ابتدائی طور پر ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اب قابل افسران نے سرکاری سروس کو ایک کیرئر کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔

راشدمحمودلنگڑیال نے کہا کہ آئرس کے حوالے سے نیا نظام لارہے ہیں، اندرونی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے پاکستان سنگل ونڈوکے ساتھ کام کر رہے ہیں جس نے اس سلسلے میں کافی کام کیا ہے, ایف بی آر نے فیس لیس کسٹمز کا آغاز کر دیا ہے۔ اسی طرح انکم ٹیکس کے نظام آئرس کو مزیر بہتر بنارہے ہیں، اس کے ڈیزائن کا مرحلہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ چیئرمین ایف بی آرنے کہاکہ ریونیو چین کی ڈیجیٹلائزیشن پر بھی بہت سا کام کیا گیا ہے جس میں پیداوار کی نگرانی بھی شامل ہے، اس کے نتیجے میں بعض شعبوں میں ریونیو کے خلا کو نمایاں طور پر کم کیا گیا ہے، مثال کے طور پر گزشتہ سال صرف تمباکو کے شعبے میں 40 ارب روپے سے زائد کا ریونیو گیپ ختم کیا گیا جبکہ چینی کے شعبے میں 60 ارب روپے کا خلا پر کیا گیا، اسی طرح سیمنٹ اور دیگر شعبوں میں بھی کام کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ مجموعی طور پر 19 شعبوں میں اس سلسلے میں کام جاری ہے، ان میں سے پانچ شعبے پہلے ہی آن لائن آ چکے ہیں، چار میں عملی طور پر نظام نافذ کیا جا رہا ہے جبکہ باقی شعبے خریداری کے مرحلے میں ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ کی قیادت میں ہم پوری ویلیو چین میں کام کر رہے ہیں اورفرادی قوت، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی تینوں شعبوں میں اصلاحات کاعمل جاری ہے۔انہوں نے اصلاحات کے عمل میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون کوسراہا ۔