راولپنڈی میں ڈینگی کے 58 کیسز کی تصدیق، رواں سال 5661 افراد کی اسکریننگ، کوئی ہلاکت نہیں ہوئی

ضلع راولپنڈی میں رواں سال ڈینگی کے 58 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اکتوبر کے دوران اب تک 25 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق 16 اکتوبر تک ڈینگی کے شبہ میں 5661 افراد کی اسکریننگ کی گئی جن میں سے 58 میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی جبکہ 391 افراد کے ٹیسٹ منفی آئے۔ اس وقت پانچ مریض اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن …

راولپنڈی ۔16اکتوبر (اے پی پی):ضلع راولپنڈی میں رواں سال ڈینگی کے 58 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ اکتوبر کے دوران اب تک 25 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق 16 اکتوبر تک ڈینگی کے شبہ میں 5661 افراد کی اسکریننگ کی گئی جن میں سے 58 میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی جبکہ 391 افراد کے ٹیسٹ منفی آئے۔ اس وقت پانچ مریض اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں سے دو میں ڈینگی کی تصدیق ہو چکی ہے تاہم رواں سال ڈینگی سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ڈینگی کی روک تھام کے لیے ان ڈور اور آؤٹ ڈور سرویلنس جاری ہے جس کے تحت 985 ان ڈور جبکہ 415 آئوٹ ڈور ٹیمیں سرگرم ہیں۔ ضلع بھر میں 17 ہزار 859 ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ گزشتہ ہفتے کے دوران سرویلنس کی کوریج 100 فیصد رہی۔ ڈینگی بریٹو انڈیکس رپورٹ کے مطابق 47 یونین کونسلز میں انڈیکس تین سے کم، 89 میں تین سے سات، 28 میں سات سے دس جبکہ 25 یونین کونسلز میں دس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈینگی لاروا کی افزائش روکنے کے لیے 55 لاکھ 67 ہزار 891 گھروں کی چیکنگ کی گئی، جن میں سے 2 لاکھ ایک ہزار 351 گھروں میں لاروا کی موجودگی پائی گئی۔

اسی طرح 19 لاکھ 23 ہزار 742 مقامات کی جانچ پڑتال کے دوران 26 ہزار 656 مقامات پر لاروا کی نشاندہی ہوئی جبکہ مجموعی طور پر 2 لاکھ 28 ہزار 7 لاروا رپورٹ کیے گئے۔ ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی اور لاروا کی موجودگی پر کارروائی کرتے ہوئے 2798 ایف آئی آرز درج، 686 عمارتیں سیل اور 2331 چالان کیے گئے جبکہ مجموعی طور پر 31 لاکھ 56 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

محکمہ صحت کے مطابق ڈینگی لاروا کی سب سے زیادہ شرح کلیال پوٹھوہار ٹاؤن کے پیری اربن علاقے میں ریکارڈ کی گئی جہاں بریٹو انڈیکس 288.73 رہا۔ اس کے علاوہ ڈھوک حسو شمالی اور چکلالہ کینٹ کے مختلف علاقوں میں بھی لاروا کی نمایاں موجودگی سامنے آئی۔ حکام کے مطابق ڈینگی پر قابو پانے کے لیے سرویلنس، لاروا کی تلفی اور ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔