اسلام آباد۔3جنوری (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس سال 2019ء کے دوران ارکان پارلیمان کی ٹیکس ڈائریکٹری باضابطہ طور پر جاری کر دی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری 2019ء میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس سال 2019ء میں 98 لاکھ 54 ہزار 959 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا۔ وزیراعظم کی معمول کی آمدن 3 کروڑ 89 …
ایف بی آر نے ٹیکس سال 2019ء کے دوران ارکان پارلیمان کی ٹیکس ڈائریکٹری باضابطہ طور پر جاری کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔3جنوری (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس سال 2019ء کے دوران ارکان پارلیمان کی ٹیکس ڈائریکٹری باضابطہ طور پر جاری کر دی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری 2019ء میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس سال 2019ء میں 98 لاکھ 54 ہزار 959 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا۔ وزیراعظم کی معمول کی آمدن 3 کروڑ 89 لاکھ 774 روپے رہی جبکہ زرعی آمدن کا تخمینہ 23 لاکھ 64 ہزار 150 روپے ہے۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ٹیکس سال 2019ء میں 71 لاکھ 42 ہزار 9 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، اسی سال ان کی معمول کی آمدنی 3 کروڑ 29 لاکھ 54 ہزار 410 روپے رہی، میاں شہباز شریف کی زرعی آمدنی 10 لاکھ روپے ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ٹیکس سال 2019ء میں 5 لاکھ 55 ہزار 794 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان کی اسی سال معمول کی آمدن 97 93 ہزار 702 روپے رہی۔
ایسوسی ایشن آف پرسن کے طور پر سپیکر اسد قیصر نے 14 لاکھ 34 ہزار 380 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا ہے۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے ٹیکس سال 2019ء میں ایک لاکھ 49 ہزار 141 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان کی معمول کی آمدن 33 لاکھ 54 ہزار 887 روپے جبکہ زرعی آمدن 2 لاکھ روپے رہی۔ چیئرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی نے ٹیکس سال 2019ء میں 13 لاکھ 99 ہزار 327 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان کی معمول کی آمدن 85 لاکھ 50 ہزار 81 روپے جبکہ زرعی آمدنی 22 لاکھ 90 ہزار 760 روپے رہی۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ٹیکس سال 2019ء میں 2 ہزار روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان کی معمول کی آمدن 9 لاکھ 38 ہزار 858 روپے رہی جبکہ ان کی زرعی آمدن 80 ہزار روپے ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ٹیکس سال 2019ء میں 10 لاکھ 99 ہزار 758 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا۔
ٹیکس سال 2019ء میں ان کی آمدنی 2 کروڑ 47 لاکھ 33ہ ہزار 102 روپے جبکہ ان کی زرعی آمدن 2 کروڑ 42 لاکھ 31 ہزار 425 روپے رہی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ٹیکس سال 2019ء میں کل 66 ہزار 258 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ اسی سال ان کی معمول کی آمدن 25 لاکھ 8 ہزار 386 روپے رہی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے ٹیکس سال 2019ء میں 10 لاکھ 61 ہزار 777 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ اسی سال ان کی معمول کی آمدن 78 لاکھ 58 ہزار 885 روپے تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹیکس سال 2019ء میں 5 لاکھ 35 ہزار 243 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ اسی سال ان کی معمول کی آمدنی 20 لاکھ 92 ہزار روپے رہی، ان کی زرعی آمدنی 2 کروڑ 96 لاکھ 66 ہزار 667 روپے رہی۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے ٹیکس سال 2019ء میں 22 لاکھ 18 ہزار 229 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان کی معمول کی آمدن 14 کروڑ 66 لاکھ 9 ہزار روپے رہی جبکہ ان کی زرعی آمدنی 13 کروڑ 60 لاکھ 48 ہزار 900 روپے رہی۔ قومی اسمبلی مین جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر اسد محمود نے ٹیکس سال 2019ء میں 96 ہزار 695 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ اسی سال ان کی آمدنی 27 لاکھ 11 ہزار 297 روپے رہی۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے ٹیکس سال 2019ء میں 42 لاکھ 72 ہزار 426 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان کی معمول آمدن 26 لاکھ 87 ہزار 433 روپے رہی۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ٹیکس سال 2019ء میں 5 لاکھ 57 ہزار 450 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، اسی سال ان کی معمول آمدن 39 لاکھ 5 ہزار 72 روپے جبکہ ان کی زرعی آمدن 3 لاکھ 24 ہزار 666 روپے رہی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے ٹیکس سال 2019ء میں 9 لاکھ 32 ہزار 835 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ اس سال ان کی آمدنی 72 لاکھ 14 ہزار 174 روپے ریکارڈ کی گئی۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے ٹیکس سال 2019ء میں 12 لاکھ 57 ہزار 461 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ ان کی معمول کی آمدنی 23 لاکھ 93 ہزار 710 روپے رہی۔
وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے ٹیکس سال 2019ء میں 7 لاکھ 84 ہزار 966 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ ان کی معمول کی آمدنی 64 لاکھ 74 ہزار 832 روپے رہی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹیکس سال 2019ء میں 8 لاکھ 51 ہزار 955 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان کی معمول کی آمدن 37 لاکھ 63 ہزار 35 روپے جبکہ ان کی زرعی آمدن 3 لاکھ 50 ہزار روپے رہی۔ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار نے ٹیکس سال 2019ء میں ایک لاکھ 58 ہزار 100 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان کی معمول کی آمدن 2 لاکھ 88 ہزار 719 روپے جبکہ زرعی آمدن 4 کروڑ 29 لاکھ 87 ہزار 272 روپے رہی۔ قومی اسمبلی میں اے این پی کے پارلیمانی لیڈر امیر حیدر ہوتی نے ٹیکس سال 2019ء میں 98 ہزار 146 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان کی اسی سال معمول کی آمدنی 43 لاکھ 70 ہزار 976 روپے جبکہ زرعی آمدنی 16 لاکھ 50 ہزار روپے رہی۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے ٹیکس سال 2019ء میں ایک لاکھ 36 ہزار 808 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان کی معمول کی آمدنی 26 لاکھ 82 ہزار 187 روپے جبکہ زرعی آمدنی 3 لاکھ 50 ہزار روپے رہی۔ چوہدری فواد حسین نے ایسوسی ایشن آف پرسن کے طور پر 1332 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا۔ وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے ٹیکس سال 2019ء میں 4 لاکھ 5 ہزار 477 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ ان کی معمول کی آمدنی 21 لاکھ 9 ہزار 540 روپے رہی۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام نے ٹیکس سال 2019ء میں 55 لاکھ 79 ہزار 825 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان کی معمول کی آمدن 40 لاکھ 57 ہزار 457 روپے جبکہ زرعی آمدن 25 لاکھ 37 ہزار 682 روپے رہی۔ وفاقی وزیر بحری امور علی حیدر زیدی نے ٹیکس سال 2019ء میں 10 لاکھ 47 ہزار 808 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا، ان کی معمول کی آمدنی 37 لاکھ 43 ہزار 167 روپے رہی۔
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سیّد شبلی فراز نے ٹیکس سال 2019ء میں 8 لاکھ 85 ہزار 451 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ ان کی معمول کی آمدنی 26 لاکھ 71 ہزار 902 روپے رہی۔ وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے ٹیکس سال 2019ء میں 29 ہزار 25 روپے کا انکم ٹیکس جبکہ ایسوسی ایشن آف پرسن کے طور پر ایک کروڑ 80 لاکھ 59 ہزار 678 روپے کا ٹیکس ادا کیا، ان کی معمول کی آمدن 6 کروڑ 52 لاکھ 5 ہزار 786 روپے رہی۔
وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سیّد امین الحق نے ٹیکس سال 2019ء میں ایک لاکھ 57 ہزار 32 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ ان کی معمول کی آمدنی 26 لاکھ 33 ہزار 305 روپے رہی۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالاکبر خان چترالی نے ٹیکس سال 2019ء میں 39 ہزار 761 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ ان کی معمول کی آمدن 19 لاکھ 95 ہزار 226 روپے رہی۔ سینٹ میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر مشتاق احمد نے ٹیکس سال 2019ء میں 73 ہزار 400 روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا جبکہ ان کی معمول کی آمدنی 25 لاکھ 56 ہزار روپے رہی۔
مشتاق احمد کی زرعی آمدنی 3 لاکھ روپے رہی۔ ارکان پارلیمان کی ڈائریکٹری میں تمام اراکین پارلیمنٹ اور ارکان صوبائی اسمبلی کے ٹیکس کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔ چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد اشفاق نے ٹیکس ڈائریکٹر کے اجراء کے موقع پر بتایا کہ ارکان پارلیمان کے ٹیکس کے حوالہ سے اعداد و شمار غلط ہونے کی صورت میں اس کی تصحیح ہو سکتی ہے۔








