اسلام آباد ۔ 22 اپریل (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے کورونا وائرس کی عالمی وباءکی موجودہ اوربعد میں سامنے آنے والی صورتحال کے تناظر میںآئندہ مالی سال کیلئے محصولات کا ہدف 5100 ارب روپے مقرر کئے جانے کا امکان ہے۔ایف بی آرکے ممبران لینڈ ریونیو (پالیسی) وترجمان ڈاکٹرحامد عتیق سرورنے بدھ کویہاں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اقتصادی سرگرمیوں …
ایف بی آر کے ممبران لینڈ ریونیو(پالیسی) وترجمان ڈاکٹرحامد عتیق سرور کی اے پی پی سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 22 اپریل (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے کورونا وائرس کی عالمی وباءکی موجودہ اوربعد میں سامنے آنے والی صورتحال کے تناظر میںآئندہ مالی سال کیلئے محصولات کا ہدف 5100 ارب روپے مقرر کئے جانے کا امکان ہے۔ایف بی آرکے ممبران لینڈ ریونیو (پالیسی) وترجمان ڈاکٹرحامد عتیق سرورنے بدھ کویہاں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اقتصادی سرگرمیوں کے احیاءنوکے بعد موجودہ مالی سال کیلئے کم کردہ 3908 ارب روپے کی محصولات کا ہدف حاصل کرلیا جائےگا۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کو توقع تھی کہ اپریل کے آخرتک 500 ارب روپے کے محصولات اکھٹے کرلئے جائیں گے تاہم کورونا وائرس کی وباءکی وجہ سے اب تک 145 ارب روپے کے محصولات اکٹھے ہو سکے ہیں اورمہینہ کے آخر میں یہ حجم 210 ارب روپے تک پہنچ جائےگا۔ ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ایس آراوز سے متعلق سوال پرانہوں نے کہاکہ وباءکی صورتحال کے تناظرمیں خوردنی تیل کی درآمد پر ڈیوٹی میں 2 فیصد چھوٹ دیدی گئی ہے، اسی طرح دالوں، گندم ، آٹا اورچینی سے بنی اشیاءپر ڈیوٹی میں رعایت دی گئی ہے، ان اقدامات سے آنے والے دنوں میں ان اشیاءکی قیمتوں میں 10 سے لیکر 15 فیصد تک کمی آئے گی۔انہوں نے بتایاکہ وزارت صحت نے ایف بی آر کو 61 درآمدی اشیاءکی فہرست دی تھی جن میں سے 19 اشیاءبرانڈ نام کے ساتھ ہیں، وزارت تجارت کی مشاورت سے فہرست کاجائزہ لیاگیا اوران 19 اشیاءکو فہرست سے خارج کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی عالمی وباءکے تناظر میں ہنگامی بنیادوں پر7 ارب روپے مالیت کی اشیاءکی درآمد کی گئی ہیں۔تعمیرات کے شعبہ کیلئے ریلیف پیکج کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کاکہ ایف بی آر نے تمام عمل مکمل کرلیا ہے، یہ پیکج بلڈرز اورڈویلپرز کیلئے ہے جس پر25 دسمبر سے آغاز ہوگا، تعمیراتی صنعت 20 سمتبر 2022ءتک اس سے استفادہ کرسکے گی۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے ایف بی آر کو 15 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔







