ایف پی سی سی آئی کی جانب سے پاکستان میں شفافیت اور احتساب سے متعلق ملک گیر سروے رپورٹ جاری

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے پاکستان میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے ملک گیر سروے رپورٹ جاری کی ہے جس میں بدعنوانی سے متعلق عوامی تاثر اور ذاتی تجربات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ معروف عالمی سروے ادارے IPSOS کے تعاون سے تیار کئے گئے اس سروے کو آئی-ٹیپ (Index of Transparency and Accountability in …

اسلام آباد۔3فروری (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے پاکستان میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے ملک گیر سروے رپورٹ جاری کی ہے جس میں بدعنوانی سے متعلق عوامی تاثر اور ذاتی تجربات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ معروف عالمی سروے ادارے IPSOS کے تعاون سے تیار کئے گئے اس سروے کو آئی-ٹیپ (Index of Transparency and Accountability in Pakistan) کا نام دیا گیا ہے۔ سروے کے نتائج کے مطابق عوام کی اکثریت نے بدعنوانی کا ذاتی تجربہ نہ ہونے کی تصدیق کی جبکہ شہری علاقوں میں نظام پر اعتماد کی شرح نسبتاً بہتر ریکارڈ کی گئی ہے۔

سروے کا مقصد پاکستان میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے عوامی تاثر اور ذاتی تجربات کا جامع جائزہ لینا تھا۔رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے 6018 افراد کی آراء شامل کی گئیں جن میں سے 67 فیصد رائے دہندگان نے بتایا کہ انہیں کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اسی طرح 73 فیصد نے کہا کہ انہیں کبھی رشوت دینے کی نوبت پیش نہیں آئی جبکہ 76 فیصد افراد نے اقربا پروری سے واسطہ نہ پڑنے کی تصدیق کی۔سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگرچہ 68 فیصد افراد کے تاثر کے مطابق سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عام ہے تاہم صرف 27 فیصد نے اعتراف کیا کہ ان سے ذاتی طور پر رشوت مانگی گئی۔

اسی طرح اقربا پروری کے بارے میں 56 فیصد کا تاثر منفی رہا مگر صرف 24 فیصد نے عملی طور پر اس کا سامنا ہونے کی بات کی۔رپورٹ کے مطابق شفافیت کے اشاریے میں اسلام آباد سرفہرست رہا جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔ اینٹی کرپشن اداروں میں نیب کو سب سے مؤثر ادارہ قرار دیا گیا جبکہ ایف آئی اے ، وفاقی و صوبائی محتسب اور این سی سی آئی اے سے متعلق عوامی آگاہی میں بھی بہتری دیکھی گئی۔سروے کے نتائج کے مطابق شہری علاقوں میں بدعنوانی سے متعلق عوامی تاثر دیہی علاقوں کے مقابلے میں بہتر پایا گیا اور شہری آبادی میں مجموعی طور پر نظام پر اعتماد کی شرح زیادہ رہی۔ خواتین اور نوجوان نسل کے تجربات بھی بزرگوں کے مقابلے میں زیادہ مثبت رپورٹ ہوئے۔

عوامی خدمات کے معیار کے حوالے سے نادرا کو سب سے بہتر ادارہ قرار دیا گیا جبکہ سرکاری ہسپتال، تعلیمی ادارے اور ٹریفک پولیس شفافیت کے حوالے سے نمایاں رہے۔رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ صرف 11 فیصد عوام کو حقِ معلومات قانون سے آگاہی حاصل ہے جبکہ بدعنوانی رپورٹ کرنے کے طریقہ کار سے 34 فیصد افراد واقف ہیں۔ اسی طرح "وسل بلور” تحفظ قوانین سے آگاہی کی شرح محض 15 فیصد رہی۔ماہرین کے مطابق سروے کے نتائج اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوامی تاثر اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق موجود ہے اور شہری علاقوں میں نظام پر بڑھتا ہوا اعتماد اصلاحات کے مثبت اثرات کی علامت ہے۔

مزید خبریں