اینکر شاہد مسعود نے 22 جون کو اپنے پروگرام میں بغیر کسی ثبوت کے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے خلاف کسی سے رشوت لینے کا الزام عائد کیا تھا‘پیمرا

اسلام آباد ۔ 11 اگست (اے پی پی)پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے اے آر وائی نیوز کے اینکر شاہد مسعود کے پروگرام پر پابندی کی وجوہات کے بارے میں بتایا کہ اینکر شاہد مسعود نے 22 جون 2016ءکو نشر ہونے والے اپنے پروگرام میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے کسی سے رشوت لینے کا الزام عائد کیا‘اسی پروگرام میں شاہد مسعود نے …

اسلام آباد ۔ 11 اگست (اے پی پی)پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے اے آر وائی نیوز کے اینکر شاہد مسعود کے پروگرام پر پابندی کی وجوہات کے بارے میں بتایا کہ اینکر شاہد مسعود نے 22 جون 2016ءکو نشر ہونے والے اپنے پروگرام میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے کسی سے رشوت لینے کا الزام عائد کیا‘اسی پروگرام میں شاہد مسعود نے یہ بھی الزام لگایا کہ چیف جسٹس کے بیٹے کو رشوت کے بدلے مذکورہ کام نہ کرنے اور وعدہ خلافی کرنے کی وجہ سے اغواءکیا گیا‘ الزامات کے مطابق چیف جسٹس اور رشوت دینے والوں کے درمیان مذکورہ ڈیل خلیجی ریاست میں طے پائی تھی‘پیمرا کونسل نے آئین پاکستان اور پیمرا قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر چینل کے نمائندے کا موقف غیر تسلی بخش ہونے اور معافی نہ مانگنے پر پروگرام پر پابندی لگا ئی ہے ۔پیمرا کے مطابق ایسے موقع پر جبکہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا بیٹا اغوا تھا اور ایک دیانت دار چیف جسٹس کے بارے میں ایسے بے بنیاد الزامات لگانا اِن کے خاندان کے لیے مزید تکلیف کا باعث بنا۔

Leave a Reply